کریم سعودی عرب میں خواتین ڈرائیورز بھرتی کرنے لگا

533

آپ دنیا میں جہاں بھی ہوں، ٹیکسی بلانے پر غالب امکان یہی ہے کہ اس کا ڈرائیور ایک مرد ہوگا۔ لیکن مشرق وسطیٰ و پاکستان میں اوبر کا متبادل ‘کریم‘ دنیا کے قدامت پسند ترین معاشروں میں اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور سعودی عرب جیسے ملک میں خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کا کام شروع کرچکا ہے۔

سعودی عرب میں حال ہی میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملی ہے اور اس کے بعد اتنا بڑا قدم اٹھانے والے کریم کا کہنا ہے کہ اسے اب تک 2 ہزار درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ ان میں سے متعدد خواتین تو میدان عمل میں اتار بھی دی گئی ہے۔

43 سالہ انعام الاسود کریم کے نئے پروگرام کے چہروں میں سے ایک ہیں، گو کہ وہ اب بھی اپنے شامی ڈرائیونگ لائسنس کے بدلے میں سعودی اجازت نامہ حاصل کرنے کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ کہتی ہیں کہ "میرے خیال میں لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا کام خوبی سے کر سکتی ہوں۔ مجھے ڈرائیونگ اور لوگوں سے بات کرنا پسند ہے۔” دو بچوں کی والدہ سمجھتی ہیں کہ یہ ملازمت ان کے لیے موزوں ہوگی کیونکہ وہ ایڈونچر پسند کرتی ہیں اور لگے بندھے اوقات میں کام کرنا نہیں چاہتیں۔ وہ پارٹ ٹائم بیوٹیشن بھی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ آمدنی کے کسی ایک ذریعے پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔

جدہ میں کریم کے ٹیم مینیجر ہشام لاری کا کہنا ہے کہ ادارہ 2020ء تک مشرق وسطیٰ میں 20 ہزار خواتین کپتانوں کا ہدف رکھتا ہے۔ ادارہ متحدہ عرب امارات، مصر اور مراکش جیسے ملکوں میں پہلے ہی خواتین ڈرائیورز رکھتا ہے۔

سعودی عرب میں کریم کی دو تہائی صارف خواتین ہیں۔ ڈرائیونگ پر پابندی نے انہیں سفر کے لیے کریم اور اوبر جیسی سروسز استعمال کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ اب ایک نئے سعودی عرب میں کریم بھی نئے انداز سے کام کرنا چاہتا ہے۔