چائے آئے گی اب ڈرون کے ذریعے

1,046

وہ دن دُور نہیں جب ڈرون چائے بھی لے کر آئیں گے۔ بھارت کے شہر لکھنؤ میں ایک اسٹارٹ اپ ایسے بزنس ماڈل پر کام کر رہا ہے جو ڈرون کے ذریعے صارفین کو ان کے گھر تک چائے پہنچائے گا۔

ٹیک ایگل نامی یہ کمپنی چار دوستوں نے بنائی ہے، جو ایک فوڈ ایپ کے ذریعے آرڈر لے گی۔ یہ ڈرون 2 کلو تک وزن اٹھا سکتا ہے اور 10 کلومیٹر تک کا سفر کر سکتا ہے۔

یہ ادارہ بقول اپنے "ڈرون انڈسٹری کے مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔” یہ کمرشل، شہری اور دفاعی استعمال کے لیے ڈرون بنا رہا ہے اور اس کے لیے تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔ اس کی ویب سائٹ کہتی ہے "ہم اساتذہ کی نظری و عملی معلومات کے درمیان موجود فرق کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس لیے ڈرون انڈسٹری میں کام کر رہے ہیں۔”

لکھنؤ ہی میں ایک اور ادارہ "آن لائن کاکا” بھی ڈرون ڈلیوری پر کام کر رہا ہے جو "بھارت میں فوڈ ڈلیوری کی صنعت میں انقلاب لانا چاہتا ہے۔” یہ آن لائن پلیٹ فارم شہر میں کبابوں سمیت مختلف چیزیں فراہم کرتا ہے۔

بھارت ڈرونز کے ذریعے فوڈ ڈلیوری میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی دیکھیں تو دنیا کا سب سے بڑا فوڈ ڈلیوری پلیٹ فارم UberEats سان ڈیاگو، امریکا میں نئے پروگرام پر کام کر رہا ہے تاکہ پانچ سے 30 منٹ میں کھانا فراہم کیا جائے۔