چین کا طاقتور کیمرا نیٹ ورک، بندہ صرف 7 منٹ میں پکڑا گیا

1,399

چین نے اپنے طاقتور سی سی ٹی وے کیمرا نیٹ ورک اور چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی کی مدد سے بی بی سی کے صحافی جان سڈورتھ کو پکڑنے میں صرف سات منٹ لگائے۔ معذرت کے ساتھ سڈورتھ نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، دراصل یہ ایک عملی مظاہرہ تھا کہ چین کی حکومت کا نگرانی کا نظام کتنا طاقتور اور موثر ہے۔

یہ عملی مظاہرہ ظاہر کرتا ہے کہ حالیہ چند سالوں میں چین نے اپنے مانیٹرنگ نظام کو کتنا مضبوط بنایا ہے تاکہ وہ پولیس کو اپنا کام زیادہ موثر انداز میں کرنے میں مدد دے سکے۔

ایسا ہی نظام نجی اداروں میں بھی لگانے کی ضرورت ہے، جیسا کا کارخانوں میں ملازمین اور کام کی نگرانی کے لیے لیکن ایک حلقے کا کہنا ہے کہ اس سے ریاست کو حد سے زیادہ اختیار اور قوت مل جائے گی اور عوام کا استحصال ہو سکتا ہے۔

بہرحال، چین میں دنیا کا سب سے بڑا مانیٹرنگ نظام موجود ہے، جس میں ملک بھر کے 170 ملین سی سی ٹی وی کیمرے آتے ہیں۔ 2020ء تک چین اس تعداد میں تین گنا اضافہ چاہتا ہے جس کے ساتھ یہ 400 ملین تک پہنچ جائیں گے۔

چہرہ پہچاننے (Facial Recognition) کی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی ٹیکنالوجیوں پر بھی کام ہو رہا ہے جو چہرہ، عمر، نمبر پلیٹ اور دیگر چیزوں کے ذریعے ڈیٹا نکال سکتی ہے۔

سڈورتھ کے پکڑے جانے کی مکمل وڈیو بی بی سی کی سائٹ پر موجود ہے البتہ ایک جھلک آپ ٹوئٹر پر دیکھ سکتے ہیں