چین کی اسمارٹ فون صنعت مشکل دور میں داخل

1,554

چین کی اسمارٹ فون صنعت ایک مشکل دور میں داخل ہو چکی ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ توقع سے کہیں زیادہ بھیانک منظرنامہ سامنے ہے۔ تجزیاتی ادارے کینالس کے اندازے کے مطابق 2018ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران چین میں اسمارٹ فونز کی شپمنٹ میں سال بہ سال 21 فیصد کمی آئی ہے جو 2013ء کے بعد بدترین صورت حال ہے۔

تقریباً سبھی اداروں کی شپمنٹس میں کمی آئی ہے جن میں اوپو اور ویوو کو 10 فیصد کے بدترین زوال کا سامنا کرنا پڑا جبکہ جیونی، میزو اور سام سنگ نے گزشتہ سال کے مقابلے میں لگ بھگ آدھی ڈیوائسز شپ کی ہی۔ یہاں تک کہ ہواوی بھی، جو سب سے آگے ہے، لیکن صرف 2 فیصد اضافہ حاصل کر سکا۔

واحد کمپنی جو اس صورتحال میں بھی بچی رہی ہے وہ شیاؤمی ہے، جس کی شپمنٹس میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ حیران کن بھی نہیں ہے کیونکہ یہ یہی وہ واحد ادارہ ہے جو انتہائی بنیادی نوعیت کے، یعنی 160 ڈالرز سے بھی کم قیمت کے، اور می مکس 2ایس اور می 6ایکس جیسے مہنگے ترین فونز بھی فروخت کر رہا ہے۔

موجودہ منظرنامے کی وجہ کی ہے؟ کینالس کے خیال میں "صارفین تھک چکے ہیں۔” اداروں کے درمیان ہونے والے سخت مقابلے کی وجہ سے کمپنیاں بھی ایک دوسرے کے فونز کی اقسام اور پیش کرنے کی حکمت عملیوں کی نقل کرنے لگی ہیں، لیکن صرف بڑے ادارے ایسے ہیں جو اتنے سخت مقابلے کو برداشت کر سکتے ہیں۔ چھوٹے ادارے تو بہت لمبے عرصے تک جم بھی نہیں پائيں گے۔

کینالس کو توقع ہے کہ دوسری سہ ماہی میں چین کی مارکیٹ میں زبردست اضافہ ہوگا، کیونکہ اس میں ہواوی کی پی20 سیریز سمیت دیگر فلیگ شپ فونز دستیاب ہیں۔

لیکن جب پوری دنیا میں اسمارٹ فونز کی شپمنٹس میں کمی آئی ہے تو واضح ہے کہ مارکیٹ اب اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور آگے صرف زوال ہی ہے، اس لیے مشکل وقت سے بچنے کے لیے اداروں کے پاس زیادہ راستے نہیں۔