مجرموں کو بلیک بیری فون کیوں پسند ہوتے ہیں؟

4,896

جب بھی بات انکرپٹڈ اسمارٹ فونز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان فونز کی انکرپشن کو توڑنے میں ناکامی کی ہوتی ہے، تب ذہن میں پہلی مثال آئی فون کی ہی آتی ہے۔ کیونکہ سالوں سے ایپل نے پرائیویسی اور سکیورٹی کو اپنی دو بنیادی خوبیاں بنایا ہے لیکن آئی او ایس ڈیوائسز ہی ایسے انکرپٹڈ اسمارٹ فونز نہیں کہ جو آپ خرید سکتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں امریکی ایف بی آئی نے ایک کمپنی کے سی ای او کو گرفتار کیا ہے جو لاکھوں کسٹمائزڈ بلیک بیری اسمارٹ فونز فروخت کر چکے تھے۔ یہ خاص بلیک بیری فونز کسی بھی قسم کی نگرانی سے بچنے کے لیے بنائے گئے تھے اور منظم جرائم کی دنیا میں یہ بہت ہی خاص ڈیوائسز سمجھی جاتی ہیں۔

ونسنٹ راموس کی کینیڈا میں قائم "فینٹم” وہ کمپنی ہے جو مبینہ طور پر مجرموں کے لیے ایسے خاص بلیک بیری فون بناتی تھی۔ ان ڈیوائسز میں مائیکروفون، کیمرے یہاں تک کہ جی پی ایس بھی نہیں ہوتا۔ نہ ہی انٹرنیٹ براؤزنگ اور نہ ہی ریگولر میسنجر ایپس انسٹال ہوتی ہیں۔

فینٹم انکرپٹڈ میسیجز بھیجنے کے لیے پریٹی گڈ پرائیویسی (PGP) سافٹویئر استعمال کرتا ہے، اور کبھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ لگ جائے تو ان ڈیوائسز کو دُور سے بیٹھے بیٹھے صاف کیا جا سکتا ہے۔

یہ ڈیوائسز بنیادی طور پر میکسیکو، کیوبا، وینیزوئیلا اور دیگر ممالک کے منشیات فروشوں کے گروہوں کو فروخت کی جاتی ہیں۔ البتہ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 20 ہزار فینٹم ڈیوائسز موجود ہیں جن میں سے نصف آسٹریلیا میں ہیں۔

یہ گروپ اس وقت پکڑا گیا جب رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے منشیات فروشوں کا روپ دھار کر ان سے فینٹم ڈیوائسز خریدیں۔