کرپٹوکرنسی کو ٹیکس دائرے میں لانے کی کوشش، صارف پریشان

1,367

کرپٹو کرنسی اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوعات میں سے ایک ہے اور اب تو حکومتوں کے بھی کان کھڑے ہوگئے ہیں جیسا کہ بھارت کہ جو کرپٹو کرنسی کی کڑی نگرانی پر غور کررہا ہے، صرف اس لیے تاکہ ان کے صارفین کو ٹیکس دائرے میں لا سکے۔

بھارتی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے نے بڑے شہروں میں ایک سروے کا آغاز کیا ہے تاکہ جان سکے کہ شہری بٹ کوائن کی تجارت کس طرح کر رہے ہیں، سرمایہ کار کیا کیا کر رہے ہیں تاکہ ان سے ٹیکس حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

یہ خبر تب سامنے آئی ہے جب بھارتی حکومت کے قائم کرپٹو کرنسی پینل نے غیر منظور شدہ کرنسیوں کے ڈیلرز کو بند کرنے کی ہدایت کی تھی۔ البتہ اب تک اس سلسلے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ پھر بھی صاف ظاہر ہے کہ بھارت میں کرپٹو کرنسی کے شائقین کی امیدوں پر اوس پڑنے والی ہے۔

بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑا فائدہ ہی یہی تھا کہ اس پر دنیا کی کسی حکومت یا ادارے کا راج نہیں، اگر یہی خوبی ختم کردی جائے تو کون سرمایہ کاری کرے گا؟

ریزرو بینک آف انڈیا ایسی کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے پر شہریوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، جس کی وجہ ان میں بہت تیزی سے آنے والا اتار چڑھاؤ ہے۔ بٹ کوائن ہی کو دیکھ لیں اوائل نومبر سے اب تک اس کی قیمت دو گنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

اب بھارتی اقدامات کو دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا کیونکہ وہ دنیا کی اہم ترقی پذیر مارکیٹ ہے۔ وہ کرپٹو کرنسی کو کس طرح ضابطے میں لاتا ہے اور ان پر ٹیکس لاگو کرتا ہے؟ کئی ملک اس کے تجربے سے سیکھنا چاہیں گے۔

لیکن کم از کم بھارت کے بٹ کوائن صارفین کے خواب تو چکناچور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔