کرپٹوکرنسی قتل عام: رپل کے بانی کو 12 ارب ڈالرز کا نقصان

1,232

کرپٹو کرنسی رپل (Ripple) یعنی XRP دو ہفتوں سے مسلسل گر رہی ہے جس کی وجہ غالباً جنوبی کوریا اور چین کی جانب سے قواعد و ضوابط کی تیاریاں ہیں۔ صرف رپل ہی نہیں مجموعی طور پر پوری مارکیٹ کا حال بہت برا ہے۔ صرف ایک دن میں بٹ کوائن 16 فیصد سے زیادہ گرا ہے، ایتھریم کی قیمت میں ساڑھے 23 فیصد کمی آئی ہے جبکہ رپل، اس کو 24 گھنٹے میں قیمت میں لگ بھگ 28 فیصد کمی کا نقصان سہنا پڑا ہے۔

رپل 4 جنوری کو اپنے عروج پر پہنچا جب ایک XRP کی قیمت 3.31 ڈالرز تھی۔ اگلے 10 دنوں میں اس کی قیمت گرتے گرتے 1.23 تک آ گئی اور آج یعنی بدھ 17 جنوری کو اس کی قیمت 90 سینٹ تک گر گئی۔

چین اور جنوبی کوریا کرپٹو کرنسی مائننگ اور ایکسچینج کو قانونی دائرۂ کار میں لانے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ یہ دونوں مارکیٹیں رپل کے لیے بہت اہم ہیں، لیکن یہ خبر پوری کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر بجلی بن کر گری ہے، کئی ارب ڈالرز ڈوب گئے ہیں خاص طور پر رپل کے شریک بانی کرس لارسن کا حال تو بہت ہی برا ہوگآ۔

لارسن رپل کے 5.19 ارب کے مالک ہیں، اگر ہم 4 جنوری کی قیمت کے مقابلے میں آج رپل کے ایک ٹوکن کو ایک ڈالر کا بھی سمجھیں تو لارسن کو ہونے والا نقصان 11، 12 ارب ڈالرز کا ہوگا۔ جب رپل اپنے عروج پر تھا تو لارسن اپنی دولت کے اعتبار سے دنیا کے 21 ویں امیر ترین فرد تھے۔