کرپٹو کرنسی کے خلاف بھارتی مہم تیز

1,000

کرپٹو کرنسیوں کے خلاف بھارتی حکومت کی مہم اب تیزی اختیار کرتی جا رہی ہے اور اب ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے کہ بٹ کوائن ایکسچینجز پر صارفین کے اکاؤنٹس کو ان کے قومی شناختی کارڈ کے ساتھ منسلک کردیا جائے۔

انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا کی بلاک چین اینڈ کرپٹو کرنسی کمیٹی کے سربراہ اجیت کھرانا نے کہا ہے کہ گروپ حکومت کو ایک تجویز پیش کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس میں متعلقہ ادارے مقامی ایکسچینجز پر خرید و فروخت کے تمام ڈیٹا پر نظر رکھی جائے گی اور ان کی سرگرمیوں کو صارفین کے آدھار کارڈ یا مستقل اکاؤںٹ نمبرز (پی اے این) سے منسلک کیا جائے گا۔

پی اے این گزشتہ چںد دہائیوں سے شہریوں اور بیرون ملک مقیم افراد کو بھارتی میں مالی ٹرانزیکشنز کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے جبکہ آدھار آئی ڈی سسٹم ذرا جدید ہے اور متنازع بھی، کیونکہ لوگوں کو پنی اپنی پرائیویسی کے حوالے سے بڑے خدشات ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ کرپٹو کرنسی کی بھارت میں کوئی قانونی حیثیت نہیں اور جہاں بھی یہ کوئی غیر قانونی سرگرمی کریں گی، وہاں کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ ان کے اس مبہم بیان نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو بے حال کردیا تھا کیونکہ اس کا سادہ مطلب یہ لیا گیا تھا کہ بھارت نے کرپٹو کرنسی پر پابندی لگا دی ہے۔

علاوہ ازیں بھارت میں ٹیکس حکام ایک لاکھ سے زیادہ ایسے کرپٹوکرنسی سرمایہ کاروں کو نوٹس جاری کر چکے ہیں اور ان سے حاصل کردہ منافع پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ یعنی حکومت کی نظر یہاں سے بھی ٹیکس جمع کرنے پر ہے کیونکہ بٹ کوائن کی ہر 10 میں سے ایک ٹرانزیکشن بھارت سے ہوتی ہے۔