کرپٹو کرنسی مارکیٹ زوال پذیر

910

گزشتہ 24 گھنٹوں میں بٹ کوائن سمیت تمام چھ بڑی کرپٹو کرنسیز کی قیمت میں کمی آئی ہے۔ یہ جاپان کے ایک معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج پر ہونے والے سائبر حملے اور 400 ملین ڈالرز مالیت کے نقصان کے بعد آنے والا ایک بڑا جھٹکا ہے۔

مارکیٹ نرخوں کے مطابق بٹ کوائن ایک ہی دن میں 10 فیصد گرتا ہوا 11 لاکھ روپے تک آ چکا ہے جبکہ دوسری سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایتھیریئم کے نرخ ایک لاکھ 17 ہزار روپے تک آ گئے ہیں۔ رپل لگ بھگ 124 روپے کا ہے جبکہ بٹ کوائن کیش ایک لاکھ 61 ہزار اور "ٹاپ فائیو” کی آخری کرنسی کارڈانو کا ریٹ 56 روپے ہوگیا ہے۔ 24 گھنٹے میں سب سے زیادہ کمی کارڈانو میں ہی آئی ہے جس میں لگ بھگ 16 فیصد زوال آیا ہے جبکہ رپل کے نرخوں میں ساڑھے 12 فیصد کمی دیکھنے کو ملی۔

یہی نہیں بلکہ ایک ارب ڈالرز سے کم کی مارکیٹ رکھنے والے تمام کوائنز میں بھی کمی ہوئي ہے۔ سرفہرست 10 کرنسیوں میں سے ایک بھی ایسی نہیں جس کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہو۔

2017ء میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد اب تک نیا سال کرپٹو کرنسی کے لیے مبارک ثابت نہیں ہوا۔ چین اور جنوبی کوریا میں بندش کے خطرے اور امریکا میں قواعد و ضوابط اور نگرانی غالباً اس کی اہم وجہ ہوں گی۔

جرمنی کے ڈوئچے بینک کے سربراہ ویلتھ مینجمنٹ مارکوس میولر نے خبردار کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری مکمل نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔