دبئی! دنیا کی پہلی بلاک چین حکومت

1,976

دبئی کو "مستقبل کا شہر” کہا جاتا ہے اور یہ کہنا کچھ غلط بھی نہیں ہے ۔ روبوٹ پولیس اہلکار ہوں یا اڑتی ہوئی ٹیکسیاں یا پھر بغیر ڈرائیور کی کاروں کا منصوبہ، ان سب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دبئی ہمیشہ پیش پیش رہا ہے اور حال ہی میں اس نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کے لیے ایک الگ وزیر کا تقرر بھی کیا ہے ۔ جدت کا امین شہر دبئی اب ایک نیا قدم اٹھا رہا ہے اور وہ ہے بلاک چین کی مدد سے کام کرنے والی پہلی حکومت بننا!

امارت دبئی کا ارادہ ہے کہ وہ 2020ء تک تمام ویزا درخواستیں، بل ادائیگیاں اور لائسنس کی تجدید کے لیے بلاک چین کو استعمال کرے۔ یہ سالانہ 100 ملین سے زیادہ دستاویزات بنتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کام کرتا ہے تو یہ انسانوں کے 25.1 ملین گھنٹے بجائے گا اور ساتھ ہی ڈیڑھ ارب ڈالرز سالانہ کی خطیر رقم بھی۔

یہی نہیں بلکہ دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ نے بھی جائیداد کی خرید اور ریئل اسٹیٹ تجارت کی منظوری کے لیے بلاک چین سے چلنے والا نظام استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ اس طرح مالیاتی سودے محفوظ بنانے، ریکارڈ مرتب کرنے اور گھروں کے مالکان اور مکینوں کو بجلی، پانی اور ٹیلی کمیونی کیشنز سہولیات کے بل ادا کرنے میں آسانی ہوگی۔ فراڈ سے تحفظ اور شفافیت کی صلاحیت کی بدولت بلاک چین ٹیکنالوجی ہر سال ہزاروں عالمی سرمایہ کاروں کو دبئی لا سکتی ہے۔

دبئی کا پراپرٹی شعبہ 2018ء میں مزید ترقی کرے گا جس کی وجہ بلاک چین کا انتخاب، میگا پروجیکٹس کے سلسلے کا آغاز اور ایکسپو 2020ء سے قبل نئی رہائش گاہوں کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔

ویسے رواں سال دبئی میں مکانات کی فروخت کے لیے بٹ کوائن بھی قبول کیے جانے لگے ہیں لیکن یہ محض پہلا قدم ہے کیونکہ دبئی پہلے ہی اپنی کرپٹو کرنسی ‘ایم کیش‘ جاری کر چکا ہے جو سرکاری و نجی خدمات کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

دبئی میں کاروبار اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے یہ قدم بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔