دنیا کا پہلا اینڈرائڈ سیٹلائیٹ اسمارٹ فون متعارف

2,348

اگر آپ اکثر کسی ایسے علاقے میں سفر کرتے رہتے ہیں جہاں عام موبائل سگنل موصول نہیں ہوتے تو آپ کے پاس سیٹلائٹ فون کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ وہاں پر بقیہ دنیا سے رابطے کا یہی واحد ذریعہ ہے۔ اور اس کے سگنل بذریعہ سیٹیلائٹ موصول ہونے کے باعث اسے ہر جگہ حتی کہ صحراؤں اور پہاڑوں کی بلندیوں پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن جونہی آپ اپنی دنیا میں واپس آتے ہیں تو دوسروں سے رابطے اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک اسمارٹ فون رکھنا بھی آپ کی مجبوری ہے۔ دونوں اقسام کے فونز کو بار بار بدلتے رہنا بھی ایک بڑی پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس جھنجھٹ سے نجات چاہتے ہیں تو پریشانی چھوڑیئے۔ کیونکہ تھورائیا کمپنی کی جانب سے ایسا فون متعارف کروادیا گیا ہے جو بہ یک وقت سیٹیلائٹ اور موبائل انٹینا سگنل کو وصول کر سکتا ہے۔

سیٹلائٹ آلات بنانے والی کمپنی تھورائیا کا متعارف کردہ جدید X5 ٹچ موبائل خلائی سیارچوں کے ساتھ ساتھ عالمی موبائل نظام GSM کے سگنل کو بھی وصول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نا صرف یہ بلکہ یہ اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والا دنیا کا پہلا سیٹلائیٹ فون ہے۔ گویا یہ اسمارٹ فون کی خوبیوں سے بھی مالامال ہے۔

اس فون کی ہوم اسکرین پر موجود ایک ویجیٹ کے ذریعے باآسانی اور غیر محسوس طریقے سے سیٹلائیٹ کنکشن سے جی ایس ایم کنکشن پر منتقل ہوا جا سکتا ہے۔ یہ ویجیٹ فون پر حالیہ استعمال ہونے والے کنکشن کی تفصیلات سے بھی آگاہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سیٹلائیٹ فون کے صارفین اینڈرائیڈ نظام کے باعث گوگل کے پلے اسٹور کی درجنوں ایپس سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ جو کہ اس سے پہلے موجود سیٹلائیٹ فونز میں ناممکن تھا۔

تھورائیا کمپنی نے فون کی تکنیکی تفصیلات سے تو آگاہ نہیں کیا البتہ کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق اس فون میں اعلی استعداد کار کی حامل بیٹری، بنیادی و ثانوی کیمرہ، وائی فائی، بلیوٹوتھ اور جی پی ایس جیسی تمام سہولیات شامل ہوں گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اینڈرائیڈ نظام کی بدولت ڈویلپرز ایسی ایپس باآسانی بنا سکتے ہیں جنہیں ایک سیٹیلائٹ فون میں استعمال کیا جا سکے۔

دنیا کے اس پہلے اینڈرائیڈ نظام پر مبنی سیٹلائیٹ اسمارٹ فون کی قیمت کا تعین ابھی نہیں کیا گیا۔ تاہم جلد ہی بلند پہاڑی چوٹیوں کو سر کرنے والے کو پیما اور قطبین پر تحقیق کرنے والے محققین و سیاح اس فون کے ذریعے دوردراز علاقوں میں بھی سوشل میڈیا کے ذریعے باقی دنیا کے ساتھ جڑے رہ سکیں گے۔