دنیا کا پہلا حج ہیکا تھون، سعودی خواتین نے پہلا انعام جیت لیا

3,361

تین اگست کو پہلے Hajj Hackathon کا اختتام ہوا اور اس کے تین روز بعد انعامات تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ سعودی عرب میں ہونے والے اس Hackathon میں دنیا بھر سے 3 ہزار کے لگ بھگ افراد نےاپنے نت نئے منصوبوں کے ساتھ شرکت کی ۔ اس ہیکاتھون کا مقصد حج کے دوران عازمین حج کو سہولیات فراہم کرنے والے منصوبوں کی ترویج ہے۔ یہ ہیکا تھون تین ہزار شرکاء کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ہیکاتھون بن گیا اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروالیا۔

اس ہیکاتھون کے آخری مرحلے میں پہنچنے والے شرکاء کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنا منصوبے یا مصنوعات جیوری پینل کے سامنے پیش کریں اور ان کے سوالات کے جوابات دیں۔ اس پینل میں ایپل کے شریک بانی Steve Wozniak ، ٹیک کرنچ کے مائیک بُچر اور RiseUp کے عبدالحمید شرارا سمیت کئی مقامی اور بین الاقوامی ماہرین شامل تھے۔

اس ہیکاتھون کے اختتام پر چار سعودی خواتین کے ایک گروپ کو دس لاکھ ریال کے پہلے انعام سے نوازا گیا۔ ان خواتین نے ایک اینڈروئیڈ ایپلی کیشن "ترجمان” کا منصوبہ پیش کیا تھا جسے استعمال کرتے ہوئے حاجی حضرات مکہ اور مدینہ میں نصب کسی بھی سائن بورڈ کا مطلب اپنی مقامی زبان میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس ایپلی کیشن کو چلنے کے لیے انٹرنیٹ بھی درکار نہیں ہوتا۔ یہ منصوبہ بہت سادہ ہے اور اس کے لیے بہت بڑے سرمائے کی بھی ضرورت نہیں۔اس میں سائن بورڈز پر QR Code لگا دیئے جائیں گے۔ جنہیں اسکین کرکے ترجمان ایپلی کیشن سائن بورڈ کا مطلب بتائے گی۔

اس ہیکاتھون میں دوسرا انعام (پانچ لاکھ سعودی ریال ) ایک مصری ٹیم کو دیا گیا جس نے Hajj Wallet کا منصوبہ پیش کیا۔ اس موبائل والٹ کے ذریعے عازمین حج مختلف مصنوعات کی خریداری یا سروسز کے لیے رقم ادا کرسکتے ہیں۔ جبکہ ایپلی کیشن یا والٹ میں حج والٹ کے پارنٹرز کے ذریعے یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم جمع کروائی جاسکتی ہے اور ایک والٹ سے دوسرے والٹ رقم ٹرانسفر بھی کی جاسکتی ہے۔

حج ہیکاتھون کے تیسرا انعام الجیریا کی ٹیم کو دیا گیا جس نے ایک سوشل نیٹ ورک Roaa کا منصوبہ پیش کیا جس میں حاجی حضرات حج کے دوران اپنی تصاویر کھینچ کر اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ شیئر کرسکتے ہیں۔