دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر، ریکارڈ پھر امریکا کے پاس

3,531

امریکا کی وزارت توانائی نے دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر ‘سمٹ’ کی رونمائی کردی ہے۔ یہ 200 پیٹافلاپس چلا سکتا ہے – یعنی 200 کواڈریلین کیلکولیشنز فی سیکنڈ۔ یوں چین کے سن وے ٹائیہولائٹ کا ریکارڈ توڑ دیا جو 93 پیٹافلاپ کی گنجائش رکھتا ہے۔

سمٹ ٹائٹن سے سات گنا تیز رفتار ہے، جو امریکا کا ریکارڈ تیز ترین سپر کمپیوٹر تھا اور ریاست ٹینیسی کی اسی اوک رِج نیشنل لیبارٹری میں نصب ہے۔ اندازہ لگائیے کہ ایک گھنٹے میں سمٹ ایک ایسے مسئلے کو حل کر سکتا ہے جسے نمٹانے میں ایک عام ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کو 30 سال لگیں گے۔

سمٹ کے 4608 سرورز دو ٹینس میدانوں کے برابر جگہ پر نصب ہیں، جن میں 9 ہزار سے زیادہ 22 کور آئی بی ایم پاور9 پروسیسرز ہیں اور 27 ہزار سے زیادہ اینویڈیا ٹیسلا وی 100 جی پی یوز۔ اس سسٹم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک منٹ میں 4 ہزار گیلنز پانی کا استعمال ہوتا ہے اور سمٹ اتنی بجلی کھاتا ہے جو 8100 گھروں کے استعمال کے لیے کافی ہوتی ہے۔

پانچ سال تک تیز ترین سپر کمپیوٹر کا ریکارڈ رکھنے والے چین سے اعزاز چھیننے کے علاوہ بھی سمٹ بہت کچھ کرے گا۔ اسے مصنوعی ذہانت کے کاموں کے لیے بنایا گیا ہے اور یہ مشین لرننگ اور ڈیپ لرننگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept