دنیا کی سب سے بڑی موبائل فیکٹری بھارت میں

2,581

سام سنگ آج اپنے اس کارخانے کا افتتاح کر رہا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا موبائل فون مینوفیکچرنگ پلانٹ ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے-اِن بھارتی دارالحکومت دہلی کے قریبی شہر نوئیڈا میں اس کارخانے کا افتتاح کر رہے ہیں جو ایک سال میں 120 ملین اسمارٹ فونز تیار کر سکتا ہے۔

سام سنگ کہتا ہے کہ وہ اس پلانٹ کو بنیادی فونز تیار کرنے کے لیے استعمال کرے گا کہ جو 100 ڈالرز سے کم قیمت کے ہوتے ہیں، لیکن ساتھ ہی دعویٰ ہے کہ گلیکسی ایس9 جیسی فلیگ شپ ڈیوائسز بھی یہیں بنائی جائیں گی۔

بھارت 400 ملین صارفین کے ساتھ اسمارٹ فونز کے لیے بہت بڑی مارکیٹ ہے لیکن ملک کی آبادی 1 اعشاریہ 3 ارب ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ مواقع اب بھی موجود ہیں۔ 2017ء میں ملک کے لیے اسمارٹ فونز کی شپمنٹس 124 ملین تک پہنچیں یہی وجہ ہے کہ سمجھا جا رہا ہے کہ سام سنگ کا پلانٹ مارکیٹ کا بہت بڑا حصہ حاصل کرلے گا۔ سام سنگ حال ہی میں بھارت میں سب سے بڑے اسمارٹ فون فروخت کرنے والے کے اعزاز سے محروم ہوا ہے جو اب شیاؤمی کے پاس ہے اور یہ واضح ہے کہ ملک میں اپنی پیداوار کو بڑھا کر کہ وہ اس اعزاز کو واپس حاصل کرنا چاہتا ہے۔

مودی کی "میک اِن انڈیا’ مہم نے بیرون ملک سے کمیونی کیشنز ڈیوائسز، موبائل فونز کی درآمد پر 20 فیصد کسٹمز فیس عائد کی ہے جس کی وجہ سے سام سنگ اور شیاؤمی جیسے ادارے بھارت میں فون بنانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ایپل بھی بھارت میں فون بنانا شروع کر چکا ہے۔

بھارت اداروں کے لیے بڑی مارکیٹ ہے لیکن صرف ان کے لیے جو بہت کم شرح منافع پر بھی کام کر پائیں۔ سام سنگ یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت میں قدم جما رہا ہے۔