فیس بک اب مقامی خبروں کو زیادہ جگہ دے گا

598

فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ صارف کی نیوز فیڈ پر مقامی خبروں کو زیادہ جگہ دے گا، چاہے وہ اسے درکار نہ بھی ہوں، تب بھی۔

سی ای او مارک زکربرگ نے ایک پوسٹ میں نیوز فیڈ میں تازہ ترین تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ "آج سے ہم آپ کے مقامی قصبے یا شہر کی خبروں کو زیادہ سے زیادہ جگہ دے رہے ہیں۔”

اس تبدیلی کا مطلب ہے کہ مقامی اخباری اداروں کو follow کرنے والے افراد کو اُن کی زیادہ خبریں ملیں گی – اور جو لوگ مقامی خبری اداروں کو follow نہیں کرتے، ان کے نیٹ ورک میں جب صارفین کوئی مخصوص خبر شیئر کریں گے تو انہیں بھی یہ خبریں زیادہ نظر آئیں گی۔

زکربرگ کہتے ہیں کہ یہ قدم گزشتہ سال ان کے دورۂ امریکا کا نتیجہ ہے۔ "کئی افراد نے مجھے بتایا کہ متنازع معاملات پر گرما گرمی میں اضافے کے بجائے اگر مقامی خبروں پر زیادہ توجہ دی جائے تو مناسب ہوگا۔”

یہ گزشتہ ماہ میں فیس بک کی نیوز فیڈ میں تیسری تبدیلی ہے۔ پہلے اعلان میں فیڈ پر نظر ثانی کی گئی تھی جس میں خبروں اور دیگر کمرشل مواد پر زور کو کم کیا گیا تھا۔ پھر ادارے نے کہا کہ وہ زیادہ "قابل بھروسہ” اشاعتی اداروں کو ترویج دینے کی کوشش کرے گا، جب صارفین ان اداروں کو زیادہ بھروسہ مند قرار دیں گے تب۔

اب شاید ایک اعلان ہونا باقی ہے، جس کی توجہ غالباً "معلوماتی” مواد پر ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 19 جنوری کو زکربرگ نے کہا تھا کہ ادارہ "ایسی خبروں کی ترویج چاہتا ہے جو بھروسہ مند ہو، معلوماتی ہو اور مقامی ہو” تو اب تک کے اعلانات ان میں سے دو پہلوؤں کا احاطہ کر چکے ہیں اور ایک ابھی باقی ہے۔

فیس بک کہتا ہے کہ وہ مقامی ناشرین کو کسی خاص جغرافیائی علاقے کے زیادہ افراد کی جانب سے دیکھے جانے سے پہچانے گا۔ فیس بک اس کام کا آغاز امریکا کے اشاعتی اداروں کے ذریعے کرے گا لیکن وہ اسے دیگر ممالک تک بھی پھیلانا چاہتا ہے۔

فیس بک کا یہ اعلان صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ کہنے کے باوجود کہ صارفین کی نیوزفیڈ سے خبروں کو کم کیا جائے گا، درحقیقت کوئی خبر کم نہیں ہوگی۔ زکربرگ کہتے ہیں کہ خبریں ایک اوسط صارف کی نیوزفیڈ کا 5 فیصد ہوتی ہیں اور اب "کم ہو کر” 4 فیصد ہو جائيں گی۔ ماشآ اللہ!