فیس بک امتیازی سلوک بند کرے!

1,283

برما، سری لنکا، بھارت، ویت نام اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے ایک گروپ نے فیس بک کے مالک مارک زکربرگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سوشل نیٹ ورک کی وجہ سے ان کے ملکوں میں پیدا ہونے والے مسائل پر بھی اتنی ہی توجہ دیں جتنی کہ وہ مغربی دنیا کو دیتے ہیں۔

ٹورنٹو میں ہونے والی ایک انسانی حقوق کی کانفرنس میں اس نامعلوم اتحاد کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد فیس بک کا احتساب کرنا ہے۔ حالیہ چند ماہ میں ان ممالک کے چند گروپوں نے زکربرگ کو تحریری خطوط کو لکھے تھے جن کا عنوان #DearMark تھا اور ان میں کہا گیا تھا کہ ان کے ملکوں میں کس طرح فیس بک کو مقامی جمہوری عمل کو تباہ کرنے اور نسلی فسادات کروانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے سری لنکا، برما اور ویت نام جیسے ممالک کی مثالیں دیں۔

گروپ کا کہنا ہے کہ شمالی امریکا اور یورپ سے باہر کے ممالک فیس بک کی منافع بخش مارکیٹ ہیں بلکہ اس سوشل نیٹ ورک کے 72 فیصد صارفین انہی ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں اپنی غیر ذمہ دارانہ توسیع کے دوران فیس بک کئی بنیادی پہلوؤں پر سرمایہ کاری میں ناکام ہے جیسا کہ وہ مقامی زبان کی مہارت اور بسا اوقات ظالم و جابر حکومتوں کے خلاف صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے درکار انسانی وسائل کی فراہمی کرنے میں، حالانکہ کبھی کبھار ایسے واقعات کا نتیجہ جان گنوانے کی صورت میں بھی نکل جاتا ہے۔

بنگلہ دیش، شام، فلپائنز اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے کارکن بھی اس گروپ کا حصہ ہیں۔ ان کہنا ہے کہ فیس بک ان کے ملکوں میں انتظامی مسائل سے نمٹنے میں مستقل ناکام ہے۔ یہ ضروری ہے کہ فیس بک اپنے پلیٹ فارم پر مساوات کے بنیادی اصول کی تعظیم کرے اور صارفین کے حقوق کا خم ٹھونک کر دفاع کرے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔

فیس بک نے امریکا میں تو عہد کیا تھا کہ وہ شہری حقوق اور سیاسی تعصب کا تجزیہ کرے گا اس لیے ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ فیس بک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور ان کے ملکوں میں جمہوری عمل کے خلاف سازش کے مقابلے پر بھی ویسا ہی کردار ادا کرے،جیسا وہ امریکا میں یورپ میں ایسے معاملات پر کرتا ہے۔

ترجمان تنموزی سندرراجن نے کہا کہ فیس بک ہمارے ملکوں میں مجرمانہ حد تک غفلت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس اتحاد میں ہم نے سوشل میڈیا عہد کی پہلی نسل کشی برما میں دیکھی، شام کی جنگ اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت (بھارت) میں اٹھنے والے مسائل بھی سامنے آئے لیکن توجہ حاصل کی صرف مغرب کے مسائل نے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم انٹرنیٹ کے مستقبل کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اس معاملے پر آواز اٹھائیں گے۔