فیس بک انسٹاگرام تصاویر کے ذریعے مصنوعی ذہانت پر کام کرنے لگا

1,328

آپ کی انسٹاگرام تصاویر فیس بک کو اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جینس الگورتھمز کو تربیت دینے میں مدد دے رہی ہے تاکہ وہ تصویر میں موجود اشیاء کو بہتر انداز میں سمجھے۔

فیس بک کی سالانہ F8 ڈیولپرز کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ ہیش ٹیگز کے ذریعے اربوں تصاویر سے سافٹویئر کو تربیت دینے کا ایک طریقہ بنایا گیا ہے جس کے لیے کسی فرد کو لگانے اور ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ نتیجہ ایک ایسے سسٹم کی صورت میں نکلا ہے جس نے فیس بک کے بقول ایسے الگورتھمز بنائے ہیں جن کا صنعت میں کوئی مقابلہ نہیں۔

فیس بک کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر مائیک شروفر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم انسانی ہاتھوں سے متعین کیے گئے ڈیٹاسیٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص تصویر میں موجود کسی خاص چیز کو نشان زد کرنے کا وقت نہ نکالے تو دنیا کا جدید ترین کمپیوٹر وژن سسٹم بھی اس کو شناخت نہیں کر سکتا۔ البتہ انسٹاگرام تصاویر، جو کہ پہلے ہی ہیش ٹیگز کے ذریعے لیبل کی جاتی ہیں، کی مدد سے فیس بک متعلقہ ڈیٹا جمع کرنے کے قابل بنا اور اپنے کمپیوٹر وژن کو تربیت دینے اور چیزوں کو پہچاننے کے ماڈلز کے لیے استعمال کیا۔

گو کہ یہ بڑا ہی عملی طریقہ ہے لیکن اس نے ایک مرتبہ پھر پرائیویسی اور فیس بک کی مسابقتی برتری کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کیونکہ وہ اتنا بڑا پلیٹ فارم رکھتا اور چلاتا ہے کہ جہاں اربوں صارفین انسٹاگرام، واٹس ایپ اور میسنجر جیسی ایپس موجود ہیں، اس لیے فیس بک بہت کارآمد ٹیکسٹ اور امیج ڈیٹا رکھتا ہے، جسے وہ اپنے اے آئی ماڈلز کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو ڈیٹا صارفین شیئر کرتے ہیں وہ صرف اشتہارات کے لیے ہی نہیں بلکہ اے آئی سسٹمز کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، وہ بھی ان کو اطلاع دیے بغیر۔