فیس بک کا بہتر متبادل بنائیں، ایک لاکھ ڈالرز پائیں

1,736

گزشتہ چند ماہ فیس بک کے لیے بدترین رہے ہیں۔ گزشتہ امریکی صدارتی انتخابات سے لے کر کیمبرج اینالیٹکا کے حالیہ اسکینڈل تک شاید ہی کوئی اچھی خبر فیس بک کو ملی ہو۔ صارفین کی پرائیویسی کے معاملے پر فیس بک نے ایسے قدم اٹھائے ہیں جس پر کئی خدشات نے جنم لیا ہے اور یہ بات اب زبان زد عام ہے کہ فیس بک اپنے پاس موجود ڈیٹا کا غلط استعمال کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے فیس بک کے پلیٹ فارم کو چھوڑا بھی ہے اور اپنا ڈیٹا ڈیلیٹ بھی کیا ہے۔ لیکن فیس بک سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں، ان کا متبادل کیا ہے؟ شاید ابھی کوئی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اوپن بک چیلنج نامی مقابلے کا آغاز کیا گیا ہے جس میں فیس بک کا بہترین متبادل پیش کرنے پر 7 اسٹارٹ اپس کو ایک لاکھ ڈالرز کی خطیر سرمایہ کاری کا انعام دیا جائے گا۔

لانچ نامی اسٹارٹ اپ انکیوبیٹر کے سی ای او جیسن کیلاکینس نے کہا ہے کہ "انٹرنیٹ پر موجود تمام کمیونٹیز اور سوشل مصنوعات کی اپنی عمر ہوتی ہے، اے او ایل سے لے کر مائی اسپیس تک سب نے اپنا عہد گزارا، اور عام طور پر انہیں حکومتیں بند نہیں کرتیں بلکہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ کسی بہتر پروڈکٹ کے ہاتھوں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس لیے آئیے فیس بک کی جگہ لینے کے عمل کا آغاز کریں۔”

کیلاکینس کے مطابق دو درجن ٹیمیں پہلے ہی انعام کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں اور امید ہے کہ درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 15 جون تک 100 امیدوار میدان میں آ جائیں گے۔ بنیادی ہدف ہے "ایک ارب صارفین رکھنے والا سوشل نیٹ ورک بنانا جو فیس بک کی جگہ لے”۔ پانچ معیارات پر پورا اترنا سب کے لیے ضروری ہے: صارف کی پرائیویسی کا تحفظ، "خراب عناصر” سے جمہوریت کا تحفظ، غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا، لوگوں کو اپنی سروس کی لت نہ لگانا اور "استحصال کو روکتے ہوئے آزادی اظہار کا تحفظ”۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کوئی نہیں جانتا کہ فیس بک کی جگہ کیسے لی جائے گی۔ اسے شکست دینے کے لیے جیتنے والی ٹیم کو نہ صرف بنیادی کام بخوبی کرنا ہوں گی وہ بھی ایسے جو صارف کو منتقل ہونے پر مجبور کریں بلکہ ایسے نئے تجربات بھی دینا ہوں گی جن کی وجہ سے صارف کو نیا پن بھی محسوس ہو۔

15 جون کے بعد کیلاکینس 20 حتمی امیدواروں کو منتخب کریں گے اور تین ماہ کے لیے ان کے منصوبوں کی رہنمائی کریں گے۔ اس مرحلے پر سات فاتحین کا انتخاب کیا جائے گا جو چار ماہ کے لیے لانچ انکیوبیٹر میں شمولیت اختیار کریں گے اور انہیں اپنی سائٹ بنانے کے لیے ایک لاکھ ڈالرز ملیں گے۔

فیس بک کی جگہ لینا ایک بہت بڑا ہدف ہے لیکن ایسا پلیٹ فارم بنانا ایک الگ چیز ہے اور لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ موجودہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس چھوڑ کر اس پر منتقل ہوں، یہ ایک بالکل الگ کام ہے اور واقعی بڑا مشکل بھی ہے۔