فیس بک کو نئی مصیبت کا سامنا

1,535

اردو کی ایک کہاوت ہے "آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا” کچھ یہی صورت حال آج کل فیس بک کے ساتھ پیش آ رہی ہے۔ فیس بک ابھی کیمرج اینالاٹیکا اسکینڈل سے پوری طرح سنبھلنے بھی نہیں پائی تھی کہ اسے ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس میں خدشہ ہے کہ فیس بک کو اربوں ڈالر ادا کرنے پڑیں گے۔

آپ نے اکثر یہ مشاہدہ کیا ہو گا کہ فیس بک پہ جب بھی آپ کوئی تصویر اپلوڈ کرنے لگتے ہیں تو فیس بک اس تصویر کو پہچان کر آپ کے دوستوں کے نام بھی تجویز کرتی ہے تا کہ آپ انہیں تصویر سے نتھی "ٹیگ” کر سکیں۔ فیس کے اس ٹیگ فیچر سے اکثر صارفین پریشان رہتے ہیں۔

اسی ضمن میں خبر ہے کہ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے جج نے فیس بک کے خلاف فیصلہ جاری کیا ہے۔ جس کے مطابق فیس بک کو چہرہ پہچاننے والی اس ٹیکنالوجی پر قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فیس بک نے چہرہ پہچاننے کی یہ ٹیکنالوجی جون 2011 میں پہلی بار متعارف کروائی تھی۔ جس کے بعد فیس بک صارفین کو یہ سہولت مہیا کی گئی تھی کہ وہ تصویر میں موجود چہرے کو شناخت کردہ نام کے ساتھ نتھی (ٹیگ) کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ فیس بک صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ دائر کیا گیا تھا کہ فیس بک اس فیچر کے ذریعے اپنے صارفین کے شناختی ڈیٹابیس کو اپنے پاس محفوظ کر رہی ہے جو کہ ریاستی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اور اس سے صارفین کا استحقاق بھی مجروح ہوتا ہے۔

مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی جج جیمس ڈونیٹو نے لکھا کہ فیس بک کے صارفین انفرادی و کلاس کی صورت میں فیس بک کی اس ٹیکنالوجی کے خلاف حق ہرجانے کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔

تاہم فیس بک انتظامیہ نے اس ضمن مزید جوابی قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ فیس بک اپنے صارفین کے شناختی ڈیٹا کو محفوظ نہیں رکھتی۔ بلکہ ٹیگ فیچر میں تصاویر پر پہلے سے کیے گئے ٹیگ پر مشتمل اعدادو شمار کی مدد سے تجاویز دی جاتی ہیں۔

فیس بک کے مطابق برطانیہ سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں اس فیچر کی سہولت نہیں دی گئی۔ نیز امریکی صارفین بھی سیٹنگز کے ذریعے اس فیچر کو بند کر سکتے ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق فیس بک کو اس فیصلے کے بعد اربوں ڈالر ہرجانے کی مد میں ادا کرنے پڑیں گے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept