فیس بک پر اسٹیٹس اپڈیٹ کریں، اب آواز کے ذریعے

875

ٹیکسٹ سے کہیں زیادہ اچھا اور وڈیو ریکارڈ کرنے سے بہت زیادہ آسان، فیس بک کو امید ہے کہ "وائس” صارفین کو سوشل نیٹ ورک پر زیادہ سے زیادہ شیئرنگ کی سہولت دے گا۔ بین الاقوامی سطح پر کہ جہاں صارفین کو کسی دوسری زبان کے کی بورڈز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں وائس انہیں ٹائپنگ کی رکاوٹ عبور کرکے اپنی بات پیش کرنے کی اجازت دے گا۔

اس وقت وائس کلپس (Voice Clips) کو بطور اسٹیٹس اپڈیٹ پیش کرنے کا تجربہ بھارت میں مخصوص صارفین کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کو اس طرح اپنے دوستوں اور اہل خانہ سے رابطہ کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے ایسے مواقع دے رہا ہے جو ان کے لیے آسان ہوں۔ وائس کلپس لوگوں کو اپنے خیالات کا اظہار کا بھی ایک نیا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔

فیس بک عام خبری مضامین کے لنکس شیئر کرنے کے بجائے اپنے صارفین کو انوکھا ذاتی مواد شیئر کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کئی سالوں سے کر رہا ہے۔ اگر لنکس ہی دیکھنے ہیں تو وہ تو کسی دوسرے سوشل نیٹ ورک پر بھی مل سکتے ہیں جیسا کہ ٹوئٹر پر۔ اس سے زیادہ اصل مواد تو انسٹاگرام پر ہے جبکہ فیس بک پر تو ہر سال اصل اور ذاتی مواد گھٹتا جا رہا ہے۔ اس لیے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ فیس بک کی زندگی میں اہمیت صرف واقعات پیش کرنے تک رہ جائے گی، جیسا کہ نئی ملازمت اور جو مواد ہوگا وہ دوسروں کا ہوگا جیسا کہ ویب سائٹس کے لنکس۔

یہی وجہ ہے کہ فیس بک اس وقت نیوز فیڈ میں دوستوں کی شیئرنگ کو بڑھانے اور پیجز کے اثرات کو کم کرنے پر کام کر رہا ہے۔ یہ قدم نہ صرف صارفین کے لیے خوش آئند ہوگا بلکہ خود فیس بک کے لیے بھی کارآمد ہوگا کیونکہ اس کے نتیجے میں کاروباری ادارے اپنی پوسٹس کو پروموٹ کرنے کی کوشش کریں گے اور فیس بک پر اشتہارات خریدیں گے۔

اب وائس کلپس پیش کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لوگ اصل مواد پیش کریں اور وڈیو بنانے یا اس کی ایڈیٹنگ کرنے کے جھنجھٹ سے بھی نجات پائیں ۔ یہ ان افراد کے لیے ایک اچھا انتخاب ہوگا جو خود کو کیمرے کے سامنے خود کو پرکشش نہیں سمجھتے، یا پھر کیمرے سے گھبراتے ہیں یا پھر ان کے موبائل پر کیمرا اتنے اچھے معیار کا نہیں۔ ویسے فیس بک اپنی میسنجر ایپ پر وائس کلپ شیئرنگ کا آپشن دیتا ہے، جسے اب مرکزی ایپ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

اب تک جن صارفین نے اس کا تجربہ اٹھایا ہے اس کے مطابق اسٹیٹس اپڈیٹ کمپوزر سے ہی "Add Voice Clip” کا انتخاب کر سکتے ہیں، یعنی وہیں سے جہاں پر فوٹو اپلوڈز، لوکیشن چیک-اِنز اور دیگر آپشنز ہوتے ہیں۔ آواز جتنی چاہے لمبی ریکارڈ کریں، جب تک ڈیوائس میں اسٹوریج ہو۔ اس کے بعد صارف پری ویو بھی کر سکتا ہے البتہ ایڈٹ نہیں کر سکتا۔ اسے نیوزفیڈ پر شیئر کریں گے تو دوسرے دوست بھی اسے سن سکتے ہیں۔

اس سروس کا آغاز بھارت سے کرنے کی خاص وجہ شاید یہ ہے یہاں 22 معروف زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ بالخصوص اگر دوسری زبان استعمال کرنی ہو تو ٹائپ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر وائس کلپس کا تجربہ کامیاب ہوا اور تجرباتی صارفین میں مقبولیت پا گیا تو اسے دنیا بھر میں جاری کیا جائے گا۔