فیس بک پر ‘ٹرینڈنگ’ کا خاتمہ قریب

2,199

فیس بک ہرگز نہیں چاہتا کہ وہ ایک میڈیا کمپنی کہلائے۔ سوشل نیٹ ورک نے اب اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا متنازع ‘ٹرینڈنگ’ سیکشن اگلے ہفتے سے ختم کر رہا ہے تاکہ مستقبل کے "تجربات” کے لیے جگہ بنائے۔ ان "تجربات” میں خبروں کی وڈیوز کے لیے اپنے وڈیو ہب ‘فیس بک واچ’ پر ایک مخصوص حصہ، ایک بریکنگ نیوز لیبل جو پبلشرز اپنی پوسٹس میں استعمال کر سکتے ہیں اور ایک خاص سیکشن ہوگا جسے "Today In” شامل ہے جو لوگوں کو اپنے شہر کے مقامی پبلشرز کی خبروں اور معلومات کے ذریعے منسلک کرے گا۔

80 نئے پبلشرز اس وقت "بریکنگ نیوز” لیبل کے استعمال کا تجربہ کر رہے ہیں جو صارفین کو اپنے انسٹینٹ آرٹیکلز، موبائل اور ویب لنکس اور فیس بک لائیو وڈیو کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

فیس بک کہتا ہے کہ ابتدائی نتائج نے کلک کی شرح میں 4 فیصد اضافہ، لائیکس میں 7 فیصد اور شیئرز میں 11 فیصد اضافہ ظاہر ظاہر کیا ہے۔ یہ پروڈکٹ اب بھی "الفا” ٹیسٹنگ میں ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ یہ فیچر کا بالکل ہی ابتدائی عہد ہے، جس کے بعد یہ بیٹا میں جائے گا اور پھر پبلک لانچ ہوگا۔

البتہ "Today In” کا فیچر امریکا کے 33 شہروں میں آزمایا جا رہا ہے۔ فیس بک کہتا ہے کہ اس سیکشن میں موجود پبلشرز کو کلکس میں اوسط 8 فیصد بہتری ملی ہے۔

کمپنی نے اب تک اپنے خبروں کے وڈیو ہب کے بارے میں کوئی وقت نہیں دیا کہ وہ کب براہ راست ہوگا، بلکہ یہ کہا ہے کہ "جلد” یہ امریکا کے 10 سے 12 پبلشرز آزمائیں گے جس میں بنیادی توجہ واقعات کی براہ راست کوریج، روزمرہ کے اور ہفتہ وار شوز پر ہوگی۔

یہ تبدیلی ایک ایسے موقع پر آ رہی ہے جب فیس بک کو جھوٹی خبریں پھیلانے پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ یہی نہیں بلکہ "ٹرینڈنگ” کا حصہ تو ابتداء ہی سے فیس بک کے لیے ایک عذاب بنا رہا ہے۔ خاص طور پر جعلی خبریں تو یہیں سے خوب پھیلیں۔ گو کہ جعلی خبروں کے معاملے پر فیس بک نے کافی حد تک قابو پا لیا لیکن اب یہ کہنا ہے کہ فیس بک ایک "میڈیا کمپنی” نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کمپنی ہے، ادارے کی بڑی شکست ہے۔