فیس بک سے نجات پائیں، واٹس ایپ کے بانی نے بھی کہہ دیا

2,424

واٹس ایپ کے شریک بانی برائن ایکٹن نے کہا ہے کہ صارفین کو اپنے فیس بک اکاؤنٹس سے نجات پا لینی چاہیے۔

واٹس ایپ ڈیڑھ ارب ماہانہ متحرک صارفین رکھتا ہے، اور اسے فروری 2014ء میں واٹس ایپ نے 16 ارب ڈالرز سے بھی زیادہ کی رقم پر خریدا تھا۔ اس کے بانی ایکٹن نے ٹوئٹ کیا ہے کہ "وقت آ چکا ہے #deletefacebook”۔

ایکٹن نے ستمبر 2017ء میں واٹس ایپ چھوڑا تھا۔ اُن کی جانب سے فیس بک کی مخالفت اُس وقت سامنے آئی ہے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو چند دنوں سے سخت مشکل درپیش ہے۔ جمعے کو فیس بک نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ڈیٹا کے غلط استعمال پر کیمبرج اینالٹکا اور اس کے مالک ادارے SCL گروپ کو اپنے پلیٹ فارم سے معطل کردیا ہے۔ اس ادارے نے 50 ملین فیس بک صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کی تھی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے لیے عطیہ دینے والے رابرٹ مرسر اور اسٹیو بینن کا ہاتھ تھا۔ یہ ڈیٹا تعلیمی مقاصد کے لیے تحقیق کے بجائے ووٹرز کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

کیمبرج اینالٹکا نے چینل 4 کی جانب سے ریکارڈنگز جاری کیے جانے کے بعد سی ای او الیگزینڈر نکس کو معطل کردیا ہے کیونکہ ان ریکارڈنگز میں نکس کو ٹرمپ کی صدارتی مہم میں ادارے کے کردار پر بات کرتے سنا گیا۔

اس انکشاف کے بعد سے مارکیٹ میں فیس بک کو 60 ارب ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے اور زکربرگ منظر عام سے غائب ہیں۔ ادارے کے ہنگامی اجلاس میں بھی زکربرگ موجود نہیں تھے۔ صرف دو دن میں فیس بک کے حصص میں ساڑھے 11 فیصد کی کمی آئی ہے جو 185 ڈالرز سے گرتے گرتے اب 164 ڈالرز تک آ گیا ہے۔ یعنی معاملہ سامنا آنے سے پہلے فیس بک کے کل حصص 537 ارب ڈالرز سے زیادہ تھے، اب 476 ارب ڈالرز پر کھڑے ہیں یعنی صرف دو دن میں 60 ارب ڈالرز کا نقصان۔

اب جہاں حکام کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے وہیں فیس بک اور کیمبرج اینالٹکا نے بھی کہا ہے کہ وہ داخلی طور پر اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

ایکٹن فیس بک کے تازہ عہدیدار ہیں جنہوں نے کمپنی پر تنقید کی ہے۔ گزشتہ سال یوزر گروتھ کے شعبے کے ایک سابق سربراہ نے کہا تھا کہ فیس بک معاشرے کے سماجی ڈھانچے کو تہس نہس کر رہا ہے جبکہ کمپنی کے سابق صدر شان پارکر نے بچوں پر پڑنے والے اثرات پر سوال اٹھایا تھا۔