فیچر فونز کے لیے آپریٹنگ سسٹم، گوگل کی بڑی سرمایہ کاری

3,098

مزید ایک ارب انسانوں کو آن لائن لانے کے لیے گوگل نے خاص ایپس بنائیں جو محدود کنیکٹیوٹی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کی گئیں۔ یہی نہیں بلکہ فیچر فونز پر اسسٹنٹ، میپس اور دیگر سروسز کو مقبول بنانے کے لیے گوگل نے آج کائی او ایس (KaiOS) میں 22 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کردی ہے۔

حالیہ چند سالوں میں اسمارٹ فونز سے نیچے ایک نئی کیٹیگری "اسمارٹ فیچر فون” بنی ہے جس نے محض دو یا تین انچ کی اسکرین اور T9 ڈائیل پیڈ کے ساتھ پرانے فونز کو کچھ اسمارٹ بنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی ترقی پذیر ممالک میں اسمارٹ فونز عوام کی قوت خرید سے باہر ہیں۔

کائی او ایس لینکس پر مبنی ایک آپریٹنگ سسٹم ہے جو محدود ہارڈویئر پر چلتا ہے۔ اس کا سب سے نمایاں پہلو ہے ایپ اسٹور کہ جہاں ڈیولپرز شاپنگ، خبروں اور گیمنگ کی مختلف ایپس پیش کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 4جی ایل ٹی ای بھی ہے جو وڈیو کالنگ، ڈوئل سم سپورٹ، وائی-فائی، جی پی ایس اور این ایف سی کے ذریعے ادائیگی جیسی خصوصیات پیش کرے گا۔

22 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا حصہ کائی او ایس کی فوری تیاری اور اسے عالمی سطح پر پیش کرنے میں مدد دے گا۔ دریں اثناء دونوں ادارے گوگل اسسٹنٹ، میپس، یوٹیوب اور سرچ کو کائی او ایس پر لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

گوگل گزشتہ سال بھارت میں جیو فون کے ساتھ پہلے ہی شراکت داری کر چکا ہے کہ وہ ایسے ہی فون پر گوگل اسسٹنٹ پیش کرے گا۔ سستے فونز پر انٹیلی جنٹ وائس اسسٹنٹ پیش کرنا واقعی ایک انقلابی قدم ہوگا کیونکہ یہ کی پیڈ کی وجہ سے محدود ہونے والے کئی صارفین کے مسائل بھی حل کرے گا۔

2017ء میں بننے والا کائی او ایس آج 30 ملین فونز پر چلتا ہے۔ ایچ ایم ڈی گلوبل وہ معروف ادارہ ہے جس نے اپنے نوکیا 8110 ‘بنانا فون’ میں اسے چلایا تھا جبکہ ٹی سی ایل اور مائیکرومیکس کی ڈیوائسز پر بھی یہ آپریٹنگ سسٹم نصب ہے۔ کیریئرز میں ریلائنس جیو، اسپرنٹ، اے ٹی اینڈ ٹی اور ٹی-موبائل شامل ہیں۔