فلموں میں کی گئی سائنسی پیش گوئیاں جو پوری ہوئیں

5,385

فلمیں زیادہ تر مستقبل کی پیش بینی میں غلطی کر جاتی ہیں۔ اڑتی کاروں کو ہی دیکھ لیں، ہم دہائیوں سے فلموں میں دیکھ رہے ہیں لیکن یہ خواب اب تک حقیقت کا روپ دھارتا نہیں دکھائی دیتا۔ لیکن کچھ فلمیں ایسی ضرور رہی ہیں جنہوں نے ٹیکنالوجی میں آنے والی جدّت کو بہت پہلے بھانپ لیا تھا اور اس کا اظہار عملی صورت میں کیا بھی۔ ورچوئل ریئلٹی سے لے کر سیلف-ڈرائیونگ کارز تک، بہت کچھ دکھایا گیا کن فلموں میں؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں:

فلم: The Grim Game

سن: 1919ء

پیشن گوئی: روبوٹس

جی ہاں! کسی بھی فلم میں روبوٹ کی پہلی آمد تب ہوئی تھی جب اصطلاح "روبوٹ” بھی ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ یہ ہیری ہوڈینی کی بلیک اینڈ وائٹ فلم "The Grim Game” تھی، جس میں ہم نے انسانی صورت کا "آٹومیٹن” دیکھا تھا جس کا نام Q تھا۔

انسانی تاریخ میں ہمیں کئی روبوٹ دیکھنے کو ملے ہیں لیکن جس نے حال ہی میں سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، وہ "صوفیہ” ہے۔ انسانی شکل و صورت والا یہ روبوٹ ہانگ کانگ کی کمپنی ہینسن روبوٹکس نے بنایا ہے جسے 2015ء میں بنایا گیا تھا اور یہ چہرے کے 62 مختلف تاثرات پیش کر سکتا ہے۔ سعودی حکومت نے 2017ء میں صوفیہ کو اعزازی شہریت دی تھی۔


فلم: 2001: A Space Odyssey

سن: 1968ء

پیش گوئی: ٹیبلٹ

2001ء: اے اسپیس اوڈیسی ایک سائنس فکشن کلاسک فلم ہے جس نے ٹیکنالوجی میں کئی جدتوں کی پیشن گوئی کی۔ 1968ء کی اس فلم میں ہیرو ڈاکٹر ڈیو بومین ایک خلائی اسٹیشن پر کھانا کھانے کے دوران ایک ٹیبلٹ پر وڈيوز دیکھتے ہوئے نظر آئے۔

یہ خواب 2010ء میں تب حقیقت بنا جب ایپل نے اپنا آئی پیڈ پیش کرکے ٹیبلٹ کو حقیقت کا روپ دیا۔ اب گوگل، سام سنگ، مائیکروسافٹ اور کئی ادارے ایسے کمپیوٹنگ ٹیبلٹس رکھتے ہیں۔


فلم: 2001: A Space Odyssey

سن: 1968ء

پیش گوئی: مصنوعی ذہانت رکھنے والا وائس اسسٹنٹ

اسپیس اوڈیسی میں ہم نے HAL 9000 بھی دیکھا، جو سائنس فکشن کی تاریخ کے عظیم ترین کرداروں میں سے ایک ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت رکھنے والا اسسٹنٹ بولنے، چہرہ پہچاننے سمیت کئی خصوصیات رکھتا تھا۔ اور ہاں! یہ انسانوں کو مارنے سے بھی نہیں چوکتا تھا۔

ایپل نے 2011ء میں اپنے آئی فون پر معروف وائس اسسٹنٹ ‘سری’ پیش کیا۔ اب ہمارے پاس اینڈرائیڈ کا "اوکے گوگل” بھی ہے اور ایمیزن الیگزا بھی۔


فلم: Blade Runner

سن: 1982ء

پیش گوئی: ڈجیٹل بل بورڈز

1982ء کی سائنس فکشن فلم بلیڈ رنر مستقبل کے بارے میں اپنے انوکھے تصور کی وجہ سے جانی مانی جاتی ہے۔ اس فلم کی دنیا میں سب سے نمایاں وہ بڑے ڈجیٹل بورڈز ہیں جن پر وڈیو اشتہارات چلتے دکھائی دیے۔

آج آپ دیکھیں ٹائمز اسکوائر، نیو یارک سے لے کر جاپان میں دوتونبوری تک ہر جگہ وڈیوز چلانے والے اشتہارات نے گند مچا رکھا ہے۔


فلم: Short Circuit

سن: 1986ء

پیش گوئی: فوجی روبوٹس

1986ء میں فلم شارٹ سرکٹ میں ایک ٹیکنالوجی کمپنی امریکی فوج کے لیے پروٹوٹائپ روبوٹ بناتی ہے اور اختتام "جونی 5” پر ہوتا ہے۔

اب بوسٹن ڈائنامکس جیسے ادارے ہیں جو امریکی فوج کے لیے روبوٹ تیار کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ادارے کی ایک وڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی ہے جس میں ایک کتے کی صورت رکھنے والے روبوٹ کو ایک شخص دروازہ کھولنے سے روک رہا ہے۔ روکے جانے کے باوجود بالآخر وہ ہدف میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ہے نا مزیدار؟ کیا؟ آپ کو ڈر لگ رہا ہے؟


فلم: RoboCop

سن: 1987ء

پیش گوئی: آگمینٹڈ ریئلٹی (Augmented Reality)

روبوکوپ میں گولی لگنے کے بعد پولیس افسر ایلکس جے مرفی موت کے قریب ہوتا ہے۔ وہ تب بچتا ہے جب حکومت اس کی باقیات کو ایک مشینری میں لگاتی ہے۔ جو چیزیں بہتر بنائی جاتی ہیں ان میں ایک نقاب بھی ہوتا ہے جو اس کی نظر کو بڑھاتا ہے۔ یہ ہدف کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے اور مشن کے مقاصد اور وڈیو فیدز سمیت مختلف اضافی معلومات فراہم کرتا ہے۔

آج ہم گوگل گلاس اور ہولولینس اور میجک لیپ جیسے AR نقابوں سمیت مختلف آگمینٹڈ ریئلٹی گلاسز رکھتے ہیں، جو زیر تکمیل ہیں۔


فلم: Back to the Future Part II

سن: 1989ء

پیش گوئی: خود فیتے باندھنے والے جوتے

بیک ٹو دی فیوچر II میں ہم نے نائیکی کے خود فیتہ باندھنے والے جوتے دیکھے تھے۔ آج آپ ایسے جوتے خرید سکتے ہیں جو نائیکی نے بنائے ہیں اور تقریباً ویسے ہی ہیں جیسے فلم میں دکھائی گئے ہیں۔ ہاں! اسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلم کو دیکھ کر ایجاد کرلی گئی۔

دراصل نائیکی نے ایسے جوتوں پر کام 2005ء میں شروع کیا تھا، لیکن اس وقت بیٹری ٹیکنالوجی ایسی نہ تھی اور اس کو ایک بڑی موٹر کی ضرورت تھی۔ لیکن موبائل ٹیکنالوجی بہتر ہونے کے بعد نائیکی نے 2012ء میں اس پر دوبارہ کام شروع کیا اور 2016ء میں جوتے جاری کردیے۔


فلم: Back to the Future Part II

سن: 1989ء

پیش گوئی: ہووربورڈ

جب مارٹی میک فلائی نے بیک ٹو دی فیوچر II میں ہوور بورڈ چلایا تھا تو شاید ہی کوئی دیکھنے والا ایسا ہو جو ایسا ہوور بورڈ نہ چاہتا ہو۔ اب ہمارے پاس کسی حد تک ایسا ہوور بورڈ موجود ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنی ہینڈو نے اپنے ہوور بورڈ کے لیے کک اسٹارٹر پر کامیابی سے 5 لاکھ ڈالرز سے زیادہ کی فنڈنگ لی ہے۔ یہ کام بھی کرتا ہے۔ لیکن جو اصل مسئلہ ہے، جو بہت بڑا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ یہ Maglev ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے یعنی اسے conductive دھاتی فرش کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی جب تک آپ کے پاس دھاتی اسکیٹ پارک نہ ہو، آپ اس کا مزا نہیں لے سکتے۔


فلم: Total Recall

سن: 1990ء

پیش گوئی: سیلف ڈرائیونگ کاریں

ٹوٹل ریکال میں آرنلڈ شوارزنیگر کا کردار سیلف ڈرائیونگ گاڑی میں پھرتا ہے۔ سائنس فکشن کی یہ ٹیکسی ایک بولتے روبوٹ ڈرائیور کی حامل دکھائی دی۔ بہرحال، آج کے دن تو آپ ایسا نہیں کر سکتے، لیکن سیلف ڈرائیونگ کاریں حقیقت کا روپ دھارتی جا رہی ہیں۔ گوگل 2009ء سے ان پر تجربات کر رہا ہے اور جون 2016ء تک اس ادارے کی گاڑیاں 1.7 ملین میل دوڑ چکی ہیں۔ این ویڈیا، ٹیسلا اور اوبر سمیت کئی ادارے سیلف ڈرائیونگ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں اور ہدف ہے انہیں عام مارکیٹ تک لانا۔


فلم: The Lawnmower Man

سن: 1992ء

پیش گوئی: ورچوئل ریئلٹی ہیڈسیٹ

1992ء کی فلم دی لان موور مین میں ڈاکٹر لارنس اینجلو سر پر ورچوئل ریئلٹی ہیڈ سیٹ پہنا کر سادہ باغبان جوب اسمتھ پر تجربات کر رہے ہیں ۔ یہ وی آر ترکیب اسمتھ کی علمی صلاحیتوں کو بہت بڑھاتی ہے۔ یہاں تک کہ انہیں ٹیلی پیتھی کی طاقت بھی مل جاتی ہے۔

گو کہ ابھی تک ہمیں ٹیلی پیتھی کی طاقت نہیں ملی، لیکن اوکولس رفٹ، PSVR اور ایچ ٹی سی وائیو جیسے وی آر ہیڈسیٹس ضرور ہیں۔ گیمنگ کے علاوہ یہ آٹزم میں مبتلا افراد کو بہتر سماجی صلاحیتوں کا حامل بناتے ہیں اور مریضوں کو نفسیاتی مسائل سے نمٹنے میں مدد دے رہے ہیں۔


فلم: Minority Report

سن: 2002ء

پیش گوئی: حرکت کا احساس رکھنے والی ان پٹ ڈیوائس

2002ء میں جاری ہونے والی فلم مائنارٹی رپورٹ میں اداکار ٹام کروز اپنے ہاتھوں اور انگلیوں کو ہوا میں چلا کر ایک یوزر انٹرفیس کو کنٹرول کرتے ہیں۔ آٹھ سال بعد 2010ء میں مائیکروسافٹ کائی نیکٹ جاری کرتا ہے جو ایک انفراریڈ پروجیکٹر ہے اور ایکس باکس 360 کو تھری ڈی میں صارف کے اعضاء کو ٹریک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ زیادہ ترقی یافتہ ڈیوائس لیپ موشن اور مائیکروسافٹ کا سیکنڈ جنریشن کائی نیکٹ ہے جو انگلی کی حرکت کو بھی ٹریک کر سکتا ہے۔