گھروں سے زیادہ بجلی بٹ کوائن مائنرز کے لیے

1,200

بٹ کوائن دنیا کا مستقبل ہے، بہت تیزی سے زوال پذیر ہے، کوئی بڑی جعل سازی ہے یا پھر کچھ اور ۔۔۔؟ یورپ کے ملک آئس لینڈ کے رہنے والوں سے پوچھیں، جہاں یہ عالم ہے کہ 2018ء میں ملک کو چلانے کے لیے جتنی بجلی درکار ہوگی، اس سے زیادہ بٹ کوائن کی مائننگ پر استعمال ہو جائے گی۔

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بٹ کوائن مائننگ کے لیے بہت زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں بہت تیزی سے اور ڈرامائی اضافہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ خبریں تو ایسی بھی آئی ہیں کہ مائننگ کے لیے جتنی بجلی دنیا بھر میں استعمال ہو رہی ہے، اتنی تو کئی ملکوں کی کل طلب نہیں۔ لیکن نئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تمام اندازے کم ہی تھے۔ آئس لینڈ کے بجلی ادارے ایچ ایس اورکا کا ماننا ہے کہ کرپٹو کرنسی مائنرز ملک کی 3 لاکھ 40 ہزار آبادی کی ضرورت سے زیادہ بجلی استعمال کریں گے۔

ملک میں بجلی کا گھریلو استعمال عام طور پر ہر سال 700 گیگاواٹ آورز تک پہنچتا ہے، یہ بجلی پیدا کرنا آئس لینڈ کے لیے مسئلہ ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے 20 گنا زیادہ بجلی بناتا ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ صنعتوں کو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایک ہی دن میں بجلی کی کھپت میں 5 فیصد جتنا معمولی اضافہ بھی ہو جائے تو اس سے بڑے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ادارے کے ترجمان نے کہا کہ اگر ملک میں کرپٹو-مائننگ کے تمام منصوبے مکمل ہوگئی تو ہمارے پاس اُن کے لیے بجلی نہیں ہوگی۔

یہ بات یاد رکھیے کہ کمپیوٹر خریدنا اور اسے اپنی مرضی کے مطابق بنانا آسان ہے لیکن پاور پلانٹس کی تعمیر بچوں کا کھیل نہیں۔ بجلی کی تیاری اور فراہمی کے پیچیدہ جال کو ایک ہی دن میں نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔ لیکن ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ آئس لینڈ ماحول دوست توانائی پیدا کرتا ہے۔ ملک کی تقریباً 100 فیس بجلی ماحول دوست قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے۔

دوسری طرف کرپٹوکرنسی کو دیکھیں تو اس کو بنانے کے لیے کسی عملے کی ضرورت بھی نہیں، سرمایہ بھی بہت محدود ہی خرچ کرنا پڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس پر کوئی ٹیکس نہیں ہے یعنی ملک کو اس "سرمایہ کاری” کا دھیلے کا فائدہ نہیں۔ یعنی آئس لینڈ کے لیے تو یہ خبر ہرگز خوشی کی نہیں ہے البتہ کرپٹوکرنسی کے پرستاروں کے لیے ایک روشن مستقبل کی علامت ضرور ہے۔