گولی جو پیٹ میں جاکر مرض کی تشخیص کرے گی

3,556

سائنس دانوں نے ایک ایسی گولی ایجاد کی ہے جس میں ننھے الیکٹرونکس اور لاکھوں جینیاتی طور پر انجینیئرڈ سیلز شامل کیے گئے ہیں جو انسان کے پیٹ کے اندر صحت کے کسی بھی مسئلے کو سمجھنے کے لیے کام کریں گے۔

میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ اس کیپسول کے مختلف جانوروں پر تجربات کیے جا چکے ہیں، جن میں اندر خون رسنے کی علامات کو بالکل درست بیان کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کیپسول انسان کے پیٹ کے اندر زخم، السر اور کینسر جیسے امراض کی تشخیص میں کام آ سکیں۔

اس وقت ایسے سینسرز پر ویسے بھی کام ہو رہا ہے جنہیں صحت کے بارے میں جاننے کے لیے نگلا جا سکتا ہے۔ یہ گولیاں یا کیپسول کیمروں، تھرمامیٹرز یا تیزابیت کی پیمائش کرنے والے آلات سے لیس ہوتے ہیں اور مختلف امراض کی تشخیص کرتے ہیں۔ آسٹریلیا کے رائل میلبورن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے کوروش کلانترزادے کا کہنا ہے کہ ایم آئی ٹی کی یہ ڈیوائس اپنی نوعیت کی پہلی ہے جس میں انجینیئرڈ سیلز بطور سینسرز شامل کیے گئے ہیں۔ معدے میں داخل ہونے والے اسمارٹ کیپسولوں کو بہتر بنانے کی سمت میں یہ ایک بڑا قدم ہے۔

اس کیپسول میں موجود الیکٹرونکس اسمارٹ فون کو سگنلز پہنچا سکتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق مریض کی پرائیویسی کو محفوظ کرنے کے لیے اس میں ڈیٹا انکرپشن کی بھی ضرورت ہوگی۔ بہرحال، اب اصل کام ہے اسے عام گولی کے سائز کا بنانا، جس کے بعد انسانوں پر تجربات کی اجازت لینا ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ چند سالوں میں یہ عام ہو جائیں۔