گوگل بالکل انسانوں کی طرح بات کرنے لگا

2,101

اپنے نئے ڈپلیکس (Duplex) سسٹم کے اخلاقیاتی پہلوؤں پر گرما گرمی کے بعد بالآخر گوگل نے واضح کردیا ہے کہ اس تجرباتی نظام کے ساتھ وضاحت بھی دی جائے گی۔ مصنوعی ذہانت سے لیس یہ نظام مختلف کاموں کو سرانجام دینے کے لیے انسانی آواز کی ہو بہو نقل اتار سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد لگتا ہے کہ ڈپلیکس جو بھی صورت اختیار کرے گا اس میں گفتگو کرنے والے شخص کو بتایا جائے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے بات کر رہا ہے، کسی انسان سے نہیں۔

گوگل کے ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم گوگل ڈپلیکس کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کی اہمیت کو سمجھتے اور جانتے ہیں اور ہم یہ بات شروع میں ہی کہہ چکے ہیں کہ ٹیکنالوجی میں شفافیت بہت اہم ہے۔ ہم اس فیچر کو کچھ یوں ڈیزائن کر رہے ہیں کہ یہ سسٹم اچھی طرح پہچانا جائے۔ گزشتہ روز گوگل کی کانفرنس میں اس ٹیکنالوجی کا جو ابتدائی نمونہ پیش کیا گیا ہے، اسے حقیقی پروڈکٹ کو بنانے تک آراء کی بنیاد پر بہتر بنایا جائے گا۔

ڈپلیکس ابھی حتمی پروڈکٹ نہیں ہے اور گزشتہ روز ادارے کی آئی/او ڈیولپرز کانفرنس میں گوگل سی ای او سندر پچائی نے جو پیش کیا وہ محض پہلے سے ریکارڈ شدہ ایک فون کال تھی۔ اس میں دکھایا گیا کہ گوگل اسسٹنٹ کس طرح بالکل انسانی آواز اور انداز سے بات کر رہا ہے۔ اس میں گوگل کے ڈیپ مائنڈ کی نئی ویونیٹ آڈیو-جنریشن تیکنیک اور دیگر قدرتی آواز کے طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔ جن کی مدد سے وہ انسان کے بولنے کے انداز کے مطابق بات کر سکتا ہے۔ آپ خود ہی دیکھ لیں: