گوگل کا بگ باؤنٹی پروگرام، ایک سال میں 3 ملین ڈالرز کے انعامات

943

ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے ادارے اپنی مصنوعات میں خامیوں کی تلاش کرنے والوں کے لیے "بگ باؤنٹی پروگرام” چلاتے ہیں جس کے بدلے میں تحقیق کرنے والوں کو بھاری انعامات بھی دیے جاتے ہیں جیسا کہ گوگل کا بگ باؤنٹی پروگرام ہی دیکھ لیں جس نے 2017ء میں انعامات کی صورت میں 2.9 ملین ڈالرز کی خطیر رقم تقسیم کی۔

یہ انعامات 500 سے 1 لاکھ ڈالرز تک کے درمیان ہو سکتے ہیں، جس کا انحصار بگ کی قسم اور لگائے گئے وقت پر ہے۔ متعدد پروگرام موجود ہیں جیسا کہ Vulnerability Research Grants Program اور Patch Rewards Program۔ اول الذکر نے 2017ء میں دنیا بھر کے 50 تحقیق کرنے والوں میں ایک لاکھ 25 ہزار ڈالرز تقسیم کیے جبکہ دوسرے پروگرام نے اوپن سورس سافٹویئر میں سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے کل 50 ہزار ڈالرز ادا کیے۔

سال کا سب سے بڑا اعزاز تھا ایک لاکھ 12 ہزار 500 ڈالرز، جو Android Security Rewards Program کے حصے کےطور پر پکسل فون کی خامی تلاش کرنے پر دیا گیا۔ یہ کام کرنے والے سافٹویئر کی سکیورٹی ماحول میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس سے پہلے کہ ہیکرز اس کمزوری کا فائدہ اٹھا جائیں، ان تک پہنچتے ہیں اور اس رخنے کو پر کرکے صارفین کے لیے زندگی آسان بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادارے بگ باؤنٹی پروگرام شروع کرتے ہیں اور انعام دینے میں خوب فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔صرف گوگل ہی نہیں بلکہ جی ایم، ایئر بی این بی، ماسٹرکارڈ یہاں تک کہ پینٹاگون بھی بگ باؤنٹی پروگرام چلاتے ہیں۔