گوگل مصنوعی ذہانت لائف میگزین کی لاکھوں تصاویر پر کام کرتی ہوئی

1,007

جب معاملہ آرٹ کا ہو تو گوگل یکدم سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی نے ہمارے بھدّے سے ڈوڈلز کو میں ماسٹر پیس میں بدلا، اس نے اسمارٹ فونز پر 3ڈی نقشوں کو ورچوئل نمائش میں تبدیل کیا اور پھر جس کام نے انٹرنیٹ دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، وہ تھا سیلفی لینے والوں کو مصوری کی دنیا میں میں اپنا ہم شکل ڈھونڈنے میں مدد دینا۔ اب اس نے اپنے مشین لرننگ کے تجربات میں چند نئے اضافے کیے ہیں، جو نہ صرف آرٹ کی ایک نئی صورت دے رہی ہیں بلکہ دنیا بھر کے عجائب گھروں اور ان کے منتظمین کو درپیش بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد دیں گے۔

پہلا ہے آرٹ پیلیٹ، جو آپ کو مختلف رنگوں کے انتخاب اور پھر اس کی بنیاد پر دنیا بھر کے اداروں سے فن پارے منتخب کرنے کا موقع دے گی۔ یعنی اگر آپ کو اپنے گھر میں نئے رنگ و روغن کے بعد کچھ پرنٹس کی ضرورت ہے اور پریشانی ہے کہ کون سے فن پارے زیادہ بہتر رہیں گے؟ تو ٹول یہ کام آئے گا۔

پھر لائف ٹیگز ہے، لائف میگزین کے 70 سالوں میں کروڑ ہا تصاویر لی گئیں، لیکن صرف پانچ فیصد ایسی ہیں جو شائع ہوئیں۔ یہ ٹول اس عظیم ذخیرے میں سے 40 لاکھ تصاویر سامنے لاتا ہے اور ہزاروں خودکار طور پر تخلیق کیے گئے لیبلز کے ذریعے انہیں فوری طور پر سرچ کرنا ممکن بناتا ہے، جیسا کہ "astronauts” لکھ کر تلاش کیا جا سکتا ہے۔

پھر ایک MoMA ٹول ہے، جو دنیا بھر کے عجائب گھر منتظمین کے لیے ایک بڑی خبر ہے۔ میوزیم آف ماڈرن آرٹ، نیو یارک 1929ء سے لے اب تک ہونے والی اپنی تمام نمائشوں کی تصاویر لیتا رہا ہے، لیکن کئی ایسی ہیں جن کے بارے میں معلومات موجود نہیں۔ ایسی 30 ہزار تصاویر ہیں جن آرٹ کو پہچاننے میں سال نہیں تو کئی مہینے ضرور لگ جاتے، اگر گوگل نہ ہوتا۔ گوگل کا MoMA ٹول خود کار طور پر تصویر میں موجود فن پارے کو پہچانتا ہے اور ان کو عجائب گھر کی نمائشوں کے انٹرایکٹو ذخیرے میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

آرٹ کے معاملے میں گوگل کا مشین لرننگ ٹیکنالوجی میں زیادہ زور صارفین پر رہا ہے کہ وہ اس دنیا میں داخل ہوسکیں کہ جہاں تک ان کی رسائی ویسے نہیں ہوتی۔ لیکن ان جدید ترین ٹولز سے عجائب گھروں کے ماہرین کے گھنٹوں کی محنت سے بچا رہے ہیں اور جو نتیجہ نکل رہا ہے اس کا لطف سب اٹھا رہے ہیں۔