گوگل کی ٹیکنالوجی اب فوجی ڈرونز میں

764

گوگل کے ملازمین طیش کے عالم میں ہیں کیونکہ کمپنی کو معلوم ہوا ہے کہ ان کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی امریکا کا محکمہ دفاع استعمال کر رہا ہے تاکہ عسکری ڈرونز سے حاصل کردہ وڈیو فوٹیج کا تجزیہ کر سکے۔

یہ ٹیکنالوجی اب پروجیکٹ میون (Project Maven) میں استعمال کی جا رہی ہے جو پینٹاگون کا منصوبہ ہے، جسے گزشتہ اپریل میں شروع کیا گیا تاکہ بگ ڈیٹا اور مشین لرننگ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے میدان عمل میں محکمہ دفاع کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے۔ اس کا بنیادی خیال یہ تھا کہ گوگل کی مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے ڈرونز سے مختلف گاڑیوں اور دیگر چیزوں کو پہچانا جائے۔ یہ کام پہلے انسان خود کیا کرتے تھے، لیکن یہ ڈرون اتنی زیادہ وڈیو ریکارڈنگ کر رہے ہیں کہ ان کا تجزیہ کرنے والا عملہ کم پڑ گیا ہے۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس انکشاف پر گوگل کے ملازمین کا تشویش میں مبتلا ہونا بجا ہے کیونکہ انہوں نے یہ ٹیکنالوجی فوجی سرگرمیوں کے لیے تیار نہیں کی تھی لیکن ادارے نے ایک بیان جاری کرکے انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی گوگل نے تصدیق کی کہ وہ مختلف اے پی آئیز محکمہ دفاع کو فراہم کر رہا ہے لیکن یہ خفیہ کاموں اور جنگ کے استعمالات کے لیے نہیں ہیں۔ TensorFlow مشین لرننگ سسٹم نامی یہ ٹیکنالوجی 2015ء سے میدان میں ہے اور گوگل فوٹوز کے امیج سرچ سسٹم کے پیچھے دراصل اسی ٹیکنالوجی کی طاقت ہے۔ یعنی یہ ایک نیا انکشاف ہے کہ گوگل پینٹاگون کی مدد کرتا ہے۔