گوگل نے دنیا کا سب سے بڑا کوانٹم کمپیوٹر بنا لیا

1,256

گوگل نے دنیا کا سب سے بڑا کوانٹم کمپیوٹر پروسیسر بنا لیا ہے۔ برسٹل کون (Bristlecone) نامی یہ پروسیسر 72 کیوبٹ گیٹ-بیسڈ سپر کنڈکٹنگ سسٹم ہے جس نے آئی بی ایم کے 50 کیوبٹ پروسیسر کو شکست دے دی ہے۔ یعنی دنیا کا سب سے پہلا کارآمد کوانٹم کمپیوٹر بنانے کی دوڑ اب لگتا ہے اپنے اختتام پر ہے۔

گوگل کی ٹیم نے اپنے پرانے 9 کیوبٹ سسٹم کو بڑھاتے ہوئے 72 کیوبٹ کا یہ پروسیسر تخلیق کیا ہے۔ اس کا ہدف کوانٹم کمپیوٹرز کو اتنی طاقت اور استحکام فراہم کرنا ہے جو اسے کارآمد بنائے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگر ایک کوانٹم پروسیسر کو انتہائی کم ایرر کے ساتھ چلایا جا سکے تو یہ کسی بھی معروف کمپیوٹر سائنس مسئلے پر پرانے سپر کمپیوٹرز کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ چند ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسا 100 کیوبٹس پر ممکن ہوگا، جہاں کوانٹم سسٹم زمین پر موجود تمام سپر کمپیوٹرز سے زیادہ طاقتور ہوگا۔

کوانٹم دوڑ میں صرف گوگل اور آئی بی ایم ہی شامل نہیں۔ مائیکروسافٹ بھی اپنا کوانٹم کمپیوٹنگ ریسرچ ڈویژن رکھتا ہے جبکہ انٹیل نے سلیکون چپس پر کوانٹم کمپیوٹر پروسیسرز لگائے ہیں۔

بلاشبہ اس وقت کوانٹم کمپیوٹنگ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جیسا کہ ابھی تک یہ لیبارٹری کام کے علاوہ کسی کام کے نہیں، گو کہ کلاؤڈ میں کوانٹم کمپیوٹنگ آ چکی ہے۔ پھر بھی ایرر-کریکشن سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن جب ٹیکنالوجی کی دوڑ ہو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔