گوگل نے نوجوان کو 36 ہزار ڈالرز کی انعامی رقم دی

3,542

گوگل نے یوروگوئے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو اپنے نظام میں ایک خامی تلاش کرنے پر انعام سے نوازا ہے۔ یہ گوگل کے "بگ باؤنٹی پروگرام” میں ایزیکوئیل پیریرا کا تلاش کردہ پانچواں بگ ہے اور اب تک کا سب سے قیمتی بھی کہ اس کے نتیجے میں انہیں 36 ہزار ڈالرز کی رقم ملی ہے۔

پیریرا نے 10 سال کی عمر میں اپنا پہلا کمپیوٹر لیا تھا اور 11 سال کی عمر میں تعارفی کلاس کے بعد پروگرامنگ کا آغاز کیا۔ انہوں نے پروگرامنگ لینگویجز خود سیکھنے میں کئی سال لگائے اور مختلف کوڈنگ مقابلوں میں حصہ لیا جن میں سے ایک ایسا بھی تھا جس کے ذریعے انہوں نے کیلیفورنیا میں گوگل کے صدر دفتر کا دورہ جیتا۔

بگ ہنٹنگ کا آغاز انہوں نے کافی پہلے کیا تھا اور بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے پہلا بگ تلاش کیا تھا تو انہیں 500 ڈالرز ملے اور پھر وہ اس کام میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ پیریرا نے رواں سال کے اوائل میں ایک بگ تلاش کیا اور گوگل کو اس کے بارے میں بتایا۔ انہیں گوگل کی جانب سے مسئلہ حل کرنے کے بعد حال ہی میں اس بگ کے بارے میں بات کرنے کی اجازت ملی۔

گزشتہ سال جون میں پیریرا نے ایک ایسا بگ تلاش کیا تھا جس پر انہیں 10 ہزار ڈالرز انعام ملا تھا اور اسی انعام کی کچھ رقم کے ذریعے انہوں نے امریکی جامعات میں اسکالرشپس کے لیے درخواستیں دیں۔ وہ الگ بات کہ کسی بھی تعلیمی ادارے نے انہیں قبول نہیں کیا، اس لیے وہ اب بھی اپنے آبائی شہر مونٹی وڈیو میں ہی کمپیوٹر انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ یہ آمدنی انہیں اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے میں مدد دے گی اور وہ ایک دن کمپیوٹر سکیورٹی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرلیں گے۔ اپنی تعلیم اور ماں کے گھریلو اخراجات پورا کرنے میں مدد کے علاوہ ان کا کوئی بڑا منصوبہ نہیں ہے۔

گو کہ پیریرا صرف گوگل کے بگ باؤنٹی پروگرام ہی میں حصہ لے رہے ہیں لیکن کئی دیگر ٹیکنالوجی اور وڈیو گیم بنانے والے ادارے ہیں کہ جو بگز کی دریافت اور رپورٹ کرنے پر انعامات دیتے ہیں۔