گوگل پلے اینڈرائیڈ ایپ سکیورٹی اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے تیار

1,229

اینڈرائیڈ کا کھلا اور آزاد ماحول جہاں صارفین کے لیے ایک رحمت ہے، وہیں اس مقبول ترین موبائل پلیٹ فارم کے لیے بھی ایک بڑی مصیبت ہے۔ مختلف اقسام کا ہارڈویئر اور اس پر سافٹویئر مسائل اپنی جگہ لیکن مجموعی طور پر سکیورٹی کے حوالے سے کمزور نظام اینڈرائیڈ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل نے حالیہ اپڈیٹس میں بجائے ظاہری شکل و صورت کے اندرونی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کافی اقدامات اٹھائے ہیں۔ نئے اینڈرائیڈ ورژنز زیادہ تیز ہیں اور مالویئر پروٹیکشن کے معاملے میں بھی مضبوط ہو رہے ہیں۔

گوگل پلے پالیسی میں نئی تبدیلیوں کی وجہ سے کمزور، گھٹیا اور پریشان کن ایپس کا خاتمہ ہوگا اور یوں موبائل کی ڈیوائس کی مجموعی سکیورٹی اور کارکردگی میں بہتری آئے گی ۔ بلکہ اب تو بہت جلد ایپ ویریفائی کا آپشن بھی دستیاب ہوگا ۔

اگست 2018ء سے نئی ایپس اور ایپ اپڈیٹس کو جدید اے پی آئی لیول تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد ہے ایپ کو کارکردگی اور سکیورٹی کے لحاظ سے جدید اے پی آئیز کے مطابق بنانا ہے۔

ایک اہم خبر یہ بھی ہے کہ گوگل نے پلے اسٹور پالیسی تبدیل کی ہے، جس کا اعلان حال ہی میں کیا گیا تھا ۔ 2019ء میں وہ نئی ایپس اور ایپ اپڈیٹس کے لیے 64 بٹ سپورٹ کی ضرورت متعارف کروائے گا ۔ یوں 32 بٹ کے دور کے خاتمے کا آغاز ہو جائے گا۔