ہتھیاروں والی وڈیوز کے خلاف کریک ڈاؤن

1,100

یوٹیوب نے اُن وڈیوز کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے جن میں ہتھیار یا بندوق بنانے کے طریقے بیان کیے جاتے ہیں۔ اب عوام ایسی وڈیوز پیش نہیں کر سکیں گے، اور نہ ہی دیکھ سکیں گے جن میں آتشیں اسلحہ بنانے، جوڑنے اور ان سے متعلقہ چیزیں فروخت کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ادارہ پہلے ہی ایسی وڈیوز پر پابندی لگا چکا ہے جو ہتھیار فروخت کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔

یوٹیوب نے اپنی پالیسی میں بہت خاموشی کے ساتھ تبدیلی کی ہے، جس کی وجہ ہے امریکا میں اسلحے کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے پیش آنے والے بھیانک واقعات۔ دنیا کی سب سے بڑی وڈیو سروس یوٹیوب پر ہتھیاروں کے شوقین افراد کی بڑی تعداد آتی ہے لیکن گوگل کی ملکیت اس ویب سائٹ کو سخت تنقید کا سامنا بھی تھا کہ یہاں موجود ہتھیاروں کے بارے میں وڈیوز معاشرے پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

اس وقت امریکا میں آتشیں اسلحے کے بارے میں بحث عروج پر ہے۔ گزشتہ ماہ پارک لینڈ، فلوریڈا میں ایک اسکول میں فائرنگ سے 17 افراد مارے گئے تھے جس کے بعد سے ٹیکنالوجی اداروں سے گن کنٹرول کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یوٹیوب کے مطابق وہ آتشیں اسلحہ دکھانے والے مختلف اقسام کے مواد پر پابندی لگاتا ہے، اس میں آتشیں اسلحہ بنانے، گولہ بارود، زیادہ گنجائش والے میگزین، گھر میں بنائے گئے سائیلنسر/سپریسر یا آتشیں اسلحے کے مختلف لوازمات کے بارے میں ہدایات دینے والی وڈیوز شامل ہیں۔ ساتھ ہی آتشیں اسلحے کو خود کار میں تبدیل کرنے کے بارے میں ہدایات کی حامل کوئی بھی وڈیو حذف کردی جائے گی۔