ہیکرز مریضوں کو قتل بھی کر سکتے ہیں

2,742

ہیکرز دل کے مریضوں کے پیس میکرز یا ہارٹ پمپس کو نشانہ بنا کر انہیں قتل کر سکتے ہیں۔ رائل اکیڈمی آف انجینیئرنگ نے اپنی نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ہیلتھ ٹیکنالوجی کے آلات بھی سائبر حملوں کی زد میں ہیں اور اس کے مریضوں کی حفاظت پر سنجیدہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ادارے نے مختلف ہیلتھ کیئر ڈیوائسز کے بارے میں خبردار کیا ہے جو ہیکنگ کے خطرے کی زد میں ہیں ۔

ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ پیس میکرز یا ویئریبل ہیلتھ مانیٹرز جو انٹرنیٹ یا دیگر نیٹ ورکس سے منسلک ہوں، ہیکرز کو راستہ فراہم کر سکتے ہیں کہ وہ اس نظام میں گھسیں اور انہیں ہیک کریں۔

امریکا میں چند ہسپتال پہلے ہی WannaCry اور MedJack جیسے کمپیوٹر وائرسز کا نشانہ بنے ہیں کہ جن کو ہیکرز نے ایسے طبی آلات کے ذریعے نشانہ بنایا جو محفوظ نہیں تھے ۔

ماہرین اپنے انٹرنیٹ کا پاس ورڈ دوستوں یا پڑوسیوں کو دینے سے بھی منع کرتے ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ انٹرنیٹ سکیورٹی کے حوالے سے شعور بہت نچلی سطح پر ہے اور اسے پرائمری سطح سے اسکول میں پڑھانا چاہیے۔ بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اپنے مہمانوں کو بھی پاس ورڈ نہ دیں کیونکہ ان کی سکیورٹی کے لحاظ سے کمزور ڈیوائس آپ کے لیے مسائل جنم دے سکتی ہے۔