ہر منٹ میں 500 نئے سائبر خطروں کی دریافت

1,599

2017ء کے اواخر میں ہر سیکنڈ میں آٹھ نئے سائبر خطرات دریافت ہوئے، یہ پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں دوگنی شرح ہے۔ یہ انکشاف معروف ادارے میک ایفی (McAfee) نے اپنی سہ ماہی رپورٹ میں کیا ہے جس کے مطابق گزشتہ سال کی چوتھی سہ ماہی میں ہر منٹ میں اوسطاً 500 نئے حملے دریافت ہوئے۔ گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ میں پایا گیا کہ کرپٹو کرنسی حملے، میک کے لیے مالویئر اور ہیلتھ کیئر کے شعبے میں ایسے خطرات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

میک ایفی کے ڈیٹا پرائیویسی ماہر سکیورٹی نائجل ہاتھورن نے کہا کہ "ہماری تحقیق نے پایا ہے کہ صرف ہیلتھ کیئر شعبے کو گزشتہ سہ ماہی میں سکیورٹی واقعات میں 211 فیصد اضافے کا سامنا کرنا پڑا۔ صحت عامہ کے ادارے سائبر مجرموں کے لیے ایک اہم ہدف ہیں کیونکہ وہ بہت قیمتی ذاتی ڈیٹا رکھتے ہیں۔ کئی واقعات ادارے کی سکیورٹی کے حوالے سے کمزوری یا پھر میڈیکل سافٹویئر کی خامیوں کی وجہ سے پیش آئے۔”

میک او ایس ڈیوائسز کے لیے تیار کیے گئے مالویئر میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔ چوتھی سہ ماہی میں میک مالویئر میں 24 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔ میک ایفی نے گزشتہ ایک سال میں میک مالویئر میں 243 فیصد کا کل اضافہ دیکھا۔

ایک اور اہم پہلو سائبر جرائم کے طریقوں میں تبدیلی کا ہے، جو اب بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔ کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجہ سے ایسے حملوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا جیسا کہ والٹ پلیٹ فارمز کو ہیک کرنا یا پھر ایسا مالویئر جو کسی بھی فرد کے کمپیوٹر کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کرپٹوکرنسی مائن کرنا، وغیرہ۔

میک ایفی کے سی ٹی او اسٹیو گروبمین نے کہا کہ "ڈجیٹل دنیا میں اب جرائم کرنا زیادہ آسان ہو گیا ہے بلکہ اب اس میں خطرہ بھی کم ہے اور یہ پہلے سے کہیں زیادہ منافع بخش بھی ہے۔ اس لیے کرپٹو کرنسی مائننگ سے لے کر ہسپتالوں جیسے کمزور اہداف تک کو نشانہ بنانا حیران کن نہیں ہے۔”