ہوشیار! ویب سائٹس کرپٹو کرنسی مائننگ کرنے لگیں

2,010

پاکستان اور بھارت میں کرکٹ بخار کوئی انہونی بات نہیں، کبھی کبھی تو پوری دنیا کو فٹ بال بخار بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے لیکن جو نئی وباء پھیلی ہے وہ ہے بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسیوں کی!

لوگ اندھادھند اس جادوئی کرنسی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جس کی قیمت اب آسمان کو چھو رہی ہے۔ کئی تو ایسے ہیں جنہوں نے گھر بیچ ڈالے تاکہ بٹ کوائن خرید سکیں اور اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر اپنے امیر بننے کے خواب پورے کر سکیں۔ اگر آپ کویہ حیران کن لگ رہا ہے تو اسی سے اندازہ لگا لیں کہ پچھلے سال تک ایک بٹ کوائن کی قیمت صرف 807 ڈالرز تھی لیکن ابھی یہ سطور لکھتے وقت یہ قیمت 19 ہزار ڈالرز کی حدود کو چھونے والی ہے۔ تو آخر کیوں نہ کوئی اس رو میں بہے؟ اگر اس پورے منظرنامے میں کوئی کمی ہے تو وہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کو خرچ کرنے کی جگہ کی ہے کیونکہ یہ ‘جادوئی کرنسی’ آپ کہیں خرچ نہیں کر سکتے، نہ اس سے گھر کا کرایہ دیا جا سکتا ہے، نہ بجلی کا بل یہاں تک کہ آپ اس سے موبائل بیلنس اور کریڈٹ کارڈ ادائیگی بھی نہیں کر سکتے۔

یعنی یہ سارا ہنگامہ ایک بھیڑ چال پر موقوف ہے تو آخر ویب سائٹس کیوں پیچھے رہ جائیں؟ آن لائن دنیا میں ویب سائٹس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ اشتہارات ہیں اور یہ صنعت پہلے ہی بہت متنازع اور مبہم ہے۔ اب اس میدان میں ایک نیا کھلاڑی کودا ہے جو ویب سائٹوں کو موقع دے رہا ہے کہ اگر وہ اشتہارات سے نہیں کما پا رہے تو اپنی ویب سائٹ کو کرپٹو کرنسی مائننگ پر لگا دیں۔

اگر آپ کروم براؤزر کو کرپٹو کرنسیز خاص طور پر بٹ کوائن کی مائننگ سے روکنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کروم کے لیے یہ مفت دستیاب ایڈاون انسٹال کریں:

نو بٹ کوائن مائنرز

no-bitcoin-miners

یہ رحجان ستمبر میں وجود میں آیا تھا لیکن منظر عام پر تب آیا جب نوح ڈنکن نامی ایک ٹوئٹر صارف نے بتایا کہ ایک اسٹار بکس لوکیشن اپنا مفت وائی فائی استعمال کرنے والے صارفین کو استعمال کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی مونیرو (Monero) مائن کر رہا ہے۔ اس کی ویب سائٹ اپنے پورٹل کے پیچھے کوائن ہائیو (Coinhive) کوڈ استعمال کررہی ہے جو مالوویئر کی طرح وائی فائی پر موجود تمام صارفین کو استعمال کرکے ان کو کوائن مائننگ کے لیے استعمال کررہا ہے۔

مونیرو کھمبیوں کی طرح اگنے والی ان کرپٹو کرنسیوں میں سے ایک ہے جو اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں۔ جبکہ کوائن ہائیو دراصل ایک جاوا اسکرپٹ لائبریری ہے جو ویب سائٹ وزٹ کرنے والوں کے سی پی یو ریسورسز کو استعمال کرکے مونیرو کی مائننگ کرتی ہے۔

کوائن ہائیو کی ویب سائٹس کو "اپنے صارفین کی سی پی یو پاور استعمال کرتے ہوئے کاروبار کرنے” اور "سائٹ کو بغیر اشتہار کے چلانے” کی جانب مائل کرتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اب تو ہیکرز پر ویب سائٹس کے ذریعے صارف کے کمپیوٹر مین کوائن ہائیو کا کوڈ داخل کر رہے ہیں اور ان بیچارے کے علم میں ہی نہیں کہ کوئی ان کے بل بوتے پر کرپٹو کرنسی چھاپ رہا ہے۔ یہ کام اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس وقت ایڈ بلاکر کی جانب سے سب سے زیادہ بلاک کی جانے والی دوسری بڑی ویب سائٹ کوائن ہائیو کی ہے۔

ماہرین اسے "کرپٹو جیکنگ” کا نام دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل اب بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ اب تک چار ایسی معروف ویب سائٹوں کے نام آ چکے ہیں جو ایسی حرکتیں کر رہی ہیں اوپن لوڈ، اسٹریمینگو، ریپڈ وڈیو اور آن لائن وڈیو کنورٹر۔