خبردار! ایچ پی کے لیپ ٹاپس میں خفیہ ‘کی لاگر’ پکڑا گیا

2,174

خفیہ سافٹ ویئر جو کمپیوٹر کے کی بورڈ پر ٹائپ کیے جانے والے ہر لفظ کو ریکارڈ کر سکتا ہے، ایچ پی کے سینکڑوں لیپ ٹاپ ماڈلز میں پہلے سے نصب پایا گیا ہے۔

سکیورٹی ماہر مائیکل منگ نے ایچ پی کے لیپ ٹاپس پر کی بورڈ چلانے کے لیے پہلے سے نصب شدہ سافٹ ویئر ڈرائیورز میں ‘کی لاگنگ کوڈ’ تلاش کیا ہے۔

ایچ پی کا کہنا ہے کہ ان کے 460 سے زیادہ لیپ ٹاپ ماڈلز ایسے ہیں جو "ممکنہ سکیورٹی خامی” سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ادارے نے اپنے صارفین کے لیے سافٹ ویئر پیچ جاری کردیا ہے تاکہ وہ کی لاگر (keylogger) کو حذف کر سکیں۔

متاثرہ لیپ ٹاپس میں دیگر ماڈلز کے علاوہ معروف ایلیٹ بکس، پروبک، پویلین اور اینوی جیسی رینجز بھی شامل ہیں۔ ایچ پی نے متاثرہ لیپ ٹاپس کی مکمل فہرست بھی جاری کی ہے، جن میں 2012ء تک کے ماڈلز شامل ہیں۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایچ پی اپنےچند موبائل پی سیز میں سنیپٹکس ٹچ پیڈز (Synaptics Touchpads) استعمال کرتا ہے اور اب متاثرہ ایچ پی سسٹمز کی یہ خامی کو دور کرنے کے لیے سنیپٹکس کے ساتھ کام کررہاہے۔

یہ انکشاف تب ہوا جب منگ اپنے ایچ پی لیپ ٹاپ کی کی بورڈ بیک لائٹ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے دوران سنیپٹکس ٹچ پیڈ سافٹویئر کا جائزہ لے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیفالٹ میں تو یہ کی لاگر ڈس ایبلڈ ہے لیکن کمپیوٹر تک رسائی رکھنے والا کوئی بھی ہیکر اسے صارف کی ٹائپنگ ریکارڈ کرنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔

مئی میں ایسا ہی کی لاگر مختلف ایچ پی لیپ ٹاپ ماڈلز کے آڈیو ڈرائیورز میں بھی پایا گیا تھا، تب بھی ادارے نے یہی کہا تھا کہ کی لاگر کوڈ غلطی سے سافٹویئر میں شامل ہوگیا تھا۔