ایچ ٹی سی بدترین زوال کا شکار

1,605

تائیوان کے اسمارٹ فون بنانے والے ادارے ایچ ٹی سی نے 2018ء کی پہلی سہ ماہی کے لیے اپنی آمدنی ظاہر کردی ہے اور توقعات کے عین مطابق یہ اچھی خبر نہیں ہے۔ اپریل 2018ء کے لیے ادارے کی آمدنی اپریل 2017ء کے مقابلے میں 55.4 فیصد کم ہے۔ کمپنی نے اس سال کی پہلی سہ ماہی میں صرف 365 ملین ڈالرز کمائے ہیں جو پچھلے سال کی پہلی سہ ماہی سے 43.4 فیصد کم ہیں۔ 2017ء کمپنی کے لیے بدترین مالی سال تھا اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کتنی بری خبر ہے۔

ایچ ٹی سی کا ایک نیا اسمارٹ فون اس وقت زیر تکمیل ہے U12 پلس، جو رواں ماہ کسی بھی وقت پیش کیا جا سکتا ہے۔ ادارے کو امید ہے کہ ایچ ٹی سی وائیو پرو ورچوئل ریالٹی ہیڈسیٹ کی مدد سے بھی اپنی فروخت میں اضافے کا موقع ملے گا۔ شاید اسی لیے امید کی جا سکتی ہے کہ سال کی دوسری سہ ماہی میں ایچ ٹی سی پہلی سہ ماہی سے زیادہ کمائے گا لیکن موجودہ حالات سے لگتا ہے کہ وہ پچھلے سال کی دوسری سہ ماہی جتنی آمدنی حاصل نہیں کر پائے گا۔

جاری کیے گئے اسمارٹ فونز کی تعداد میں مسلسل کمی اور ایچ ٹی سی کے انجینیئرز کے گوگل چلے جانے کی وجہ سے وہ دن بھی ضرور آئے گا جب ایچ ٹی سی مکمل طور پر اسمارٹ فون بنانا چھوڑ دے گا۔

یہ ایک حیران کن زوال ہے، کیونکہ صرف سات سال پہلے ایچ ٹی سی دنیا میں اسمارٹ فونز بنانے والا پانچواں سب سے بڑا ادارہ تھا لیکن
اب اسے 10 میں بھی جگہ نہیں مل رہی۔

ایک ایسے وقت میں جب اسمارٹ فون مارکیٹ میں ویسے ہی بڑے بڑے نام ہیں، مشکل لگتا ہے کہ U12 بھی کچھ کمالات دکھا پائے گا۔ اگر حالات نہ بدلے تو ہو سکتا ہے کہ یہ کمپنی کا آخری بڑا فون ہو۔