ایچ ٹی سی کا خاتمہ ہو گیا؟

2,169

کیا آپ کو ایچ ٹی سی ڈریم یاد ہے؟ یا پھر ایوو 4جی؟ گوگل نیکسس ون؟ ٹچ ڈائمنڈ؟ کیا شاندار ڈیوائسز تھیں یہ سب۔ لیکن 2018ء کا ایچ ٹی سی اس ادارے سے بہت مختلف ہے جس نے یہ معروف ڈیوائسز بنائی تھیں، وہ ادارہ اب ختم ہوچکا!

ایچ ٹی سی تائیوان میں موجود اپنے مینوفیکچرنگ یونٹ کے 1500 ملازمین کو فارغ کرکے اپنے خسارے کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنی چوتھائی افرادی قوت کو نکالنے کے بعد اب دنیا بھر میں ایچ ٹی سی کے ملازمین کی تعداد 5 ہزار سے بھی کم ہو چکی ہے جبکہ صرف پانچ سال پہلے، 2013ء میں، یہ تعداد 19 ہزار تھی۔

ایچ ٹی سی نے 2008ء میں ٹچ ڈائمنڈ، ٹچ پرو، ٹچ 3جی اور ٹچ ایچ ڈی کے ذریعے ٹچ ڈیوائسز کی شروعات کی اور یہ سب اپنے وقت کی بہترین ڈیوائسز شمار ہوئیں۔ تیز، بڑی اور تبدیل کرنے کے قابل بیٹریوں اور مائیکرو ایس ڈی کارڈ کی سلاٹس کی حامل ڈیوائسز تھیں جبکہ ٹچ پرو میں تو وڈیو کالز کے لیے کیمرا بھی تھا۔

پھر 2009ء میں ایچ ٹی سی نے اینڈرائیڈ پر مشتمل پہلی ڈیوائس بنائی جسے ایچ ٹی سی 1 یا جی1 کہا گیا۔ پہلے اینڈرائیڈ فون نے مستقبل کے لیے کئی امکانات کھولے۔ ہیرو، ڈرائیڈ انکریڈیبل، ایوو 4جی اور 2010ء میں شاندار گوگل نیکسس ون میدان میں آئے۔

2010ء اور 2011ء میں گوگل نے اپنے دوسرے اور تیسرے نیکسس فونز کے لیے سام سنگ کا نرخ کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب سام سنگ اینڈرائیڈ فونز بڑے پیمانے پر بنانے لگا۔ گو کہ ایچ ٹی سی اس کی رفتار کا مقابلہ نہ کر سکا لیکن اس کے باوجود کئی اعلیٰ فونز بنائے: 2012ء میں ون ایکس، 2013ء میں ون میکس اور 2014ء میں ون (ایم 8)۔ لیکن سام سنگ اس دوڑ میں بہت اہم آگے نکل گیا اور ایچ ٹی سی، سونی اور ایل جی بہت پیچھے رہ گئے۔

2010ء میں ایچ ٹی سی امریکا میں اسمارٹ فونز کے معروف اداروں میں سے ایک تھا۔ 2014ء میں یہ ایپل، سام سنگ اور ایل جی کے بعد امریکی مارکیٹ میں سب سے زیادہ حصہ رکھتا تھا۔ ایچ ٹی سی 2017ء میں اسمارٹ فون مارکیٹ کا 2.3 حصہ رکھتا تھا اور اب چند رپورٹوں کے مطابق ایچ ٹی سی کا شیئر آدھا فیصد بھی نہیں۔

گوگل نے 2017ء میں 1.1 ارب ڈالرز میں ایچ ٹی سی اسمارٹ فونز ڈیزائننگ کا بڑا حصہ خرید لیا تھا۔ اس کی وجہ سے 2 ہزار سے زیادہ ملازمین گوگل میں چلے گئے۔ وہ گوگل کی پکسل ڈیوائسز پر کام کریں گے۔ یہ قدم اس لحاظ سے بہت اچھا ہے کہ ایچ ٹی سی بہت اچھی ڈیوائسز بنا رہا تھا لیکن کوئی خرید نہیں رہا تھا۔ اس میں ان کی غلطی نہیں تھی، دیگر عوامل اس کا سبب تھے۔ لیکن اس قدم سے ایسے فونز آئیں گے جو صارفین تک پہنچیں گے۔

آج ایچ ٹی سی کی بنیادی توجہ وائیو (Vive) پروڈکٹس پر ہیں جو بلاشبہ اس وقت دستیاب بہترین ورچوئل ریئلٹی پلیٹ فارمز میں سے ایک ہیں۔ امید ہے کہ اسمارٹ فونز مارکیٹ میں کی گئی غلطیاں یہاں نہیں دہرائے گا۔