ہواوی فون استعمال نہ کریں، ایف بی آئی سمیت امریکی خفیہ ایجنسیوں کا انتباہ

2,530

امریکا کی چھ بڑی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے سربراہان نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چینی اداروں ہواوی (Huawei) اور زیڈ ٹی ای (ZTE) کی بنائی گئی مصنوعات اور سروسز استعمال نہ کریں۔ سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق حکام نے سینیٹ انٹیلی جینس کمیٹی میں ایک سماعت کے دوران یہ سفارشات پیش کیں۔ اس میں ایف بی آئی، سی آئی اے، این ایس اے کے سربراہان اور نیشنل انٹیلی جینس کے ڈائریکٹر شامل تھے۔

اس موقع پر شہادتیں پیش کرتے ہوئے ایف بی آئی ڈائریکٹر کرس رے نے کہا کہ حکومت ایسے خطرات کے حوالے سے سخت تشویش سے مبتلا ہے کہ کسی بھی بھی ادارے کو جو غیر ملکی حکومتوں کی گرفت میں ہو اسے ہمارے ٹیلی کمیونی کیشنز نیٹ ورک کے اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔ ایسا کوئی بھی قدم انہیں ہماری معلومات چوری کرنے یا اس میں تبدیلیاں کرنے کی طاقت دے سکتی ہے اور جاسوسی کی سہولت بھی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکا نے اس معاملے پر بات کی ہے۔ امریکی انٹیلی جینس بہت عرصے سے ہواوی کے بارے میں خدشات رکھتی ہے جو چینی آرمی کے ایک سابق انجینیئر نے بنائی ہے اور امریکی سیاست دان اسے چینی حکومت کا ایک مؤثر بازو سمجھتے ہیں۔ 2014ء میں امریکی حکومت کے ہواوی پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ ان کے ٹھیکوں میں بولی نہیں لگا سکتا۔ اب صارفین کے لیے برقی مصنوعات پیش کرنے میں کمپنی کے لیے مسائل کھڑے کیے جا رہے ہیں۔

گو کہ ادارے نے کام کا آغاز ٹیلی کام اداروں کی حیثیت سے کیا تھا اور یہ کمیونی کیشنز کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مختلف ہارڈویئر تیار کرتا تھا لیکن حالیہ چند سالوں میں کمپنی کے اسمارٹ فونز نے بہت شہرت حاصل کی ہے۔ گزشتہ ستمبر میں تو یہ ایپل کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسمارٹ فون بنانے والا ادارہ بن گیا۔ لیکن ادارے کو کبھی بھی امریکا کی منافع بخش مارکیٹ میں قدم نہیں جمانے دیا گیا اور اس کی وجہ ہے حکومت امریکا کا دشمنی پر مبنی رویّہ۔ گزشتہ ماہ ہواوی نے اے ٹی اینڈ ٹی کے ساتھ مل کر امریکا میں اپنا نیا فون میٹ 10 پرو لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن آخری وقت میں اے ٹی اینڈ ٹی نے معاہدے سے ہاتھ کھینچ لیا، جس کی سادہ ترین وجہ تھی سیاسی دباؤ۔

اب امریکا ایک ایسا بل لانے پر غور کر رہا ہے جس کے تحت حکومت کے ملازمین کے ہواوی اور زیڈ ٹی ای فون استعمال کرنے پر پابندی ہوگی۔ گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں ری پبلکن سینیٹر رچرڈ بر، چیئرمین سینیٹ انٹیلی جینس کمیٹی، نے کہا کہ میری تشویش کا باعث چین اور اس کے ٹیلی کام ادارے جیسا کہ ہواوی اور زیڈ ٹی ای ہیں، جو چینی حکومت کے ساتھ بہت قریبی تعلق رکھتے ہیں۔