بھارت کا بے وقوفانہ بیان، کرپٹو کرنسی مارکیٹ ہل کر رہ گئی

1,190

ایک دن میں بٹ کوائن کی قیمت منہ کے بل گرتے ہوئے نومبر کی سطح پر چلی گئی ہے۔ یہ ڈرامائی کمی بھارت کی جانب سے ورچوئل کرنسی کی خرید و فروخت پر پابندی کی خبریں سامنے آنے کے بعد ہوئی ہے جبکہ یہ سالانہ بجٹ تقریر میں کی گئی غیر مبہم بات تھی، جس نے یہ تاثر دیا کہ بھارت کرپٹو کرنسی پر پابندی لگا رہا ہے۔

2018ء کے آغاز سے لے کر اب تک دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی مسلسل زوال کا شکار ہے اور اب اس کی قیمت نصف بھی نہیں رہ گئی۔ ایک اندازے کے مطابق بٹ کوائن کو 50 ارب ڈالرز سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ دیگر کرپٹو کرنسیاں، بشمول تیسری سب سے بڑی کرنسی رپل اور بٹ کوائن کیش، بھی گزشتہ 24 گھنٹے میں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ دوسری سب سے بڑی کرنسی ایتھیریئم میں بھی کمی آئی البتہ اس کی حالت بٹ کوائن اور رپل سے بہتر رہی۔ گزشتہ سال ڈجیٹل کرنسی کی قدر میں یکدم اضافے اور نئے سرمایہ کاروں کے اضافے نے عالمی اداروں کے کن کھڑے کردیے ہیں اور اب ہر طرف سے کرپٹو کرنسی کو قانونی ضابطوں میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ حکومتوں کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی منی لانڈرنگ کے لیے مجرم استعمال کر سکتے ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں فیس بک نے کرپٹو کرنسی کے اشتہارات پر پابندی لگا دی تھی جبکہ اس سے پہلے جاپان کے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز میں سے ایک ‘کوائن چیک’ ہیک کرلیا گیا تھا جس کی وجہ سے 530 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔ یہی نہیں بلکہ امریکا میں بھی ادارے دو بڑے کرپٹو کرنسی کھلاڑی بٹ فنکس (Bitfinex) اور ٹیدر (Tether) کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں۔ یعنی ہر طرف سے بری خبریں ہی ہیں اور کرپٹو کرنسی میں اچھی خبریں سننے کو کان ترس گئے ہیں۔

جہاں تک بات ہے بھارت کی جانب سے پابندی کی تو اس کے اعلان کو دراصل غلط سمجھا گیا۔ بھارت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنی سالانہ بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ بھارت کرپٹو کرنسی کو قانونی نہیں سمجھتا اور ان کے غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کے خلاف تمام یقینی اقدامات اٹھائے گا۔ البتہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکومت ڈجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے پر غور کرے گی۔ یعنی ارون جیٹلی کا بیان غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کو روکنے کے حوالے سے تھا، نہ کہ کرپٹو کرنسی کو ہی سرے سے روک دینے کا۔ لیکن اس بیان نے بھارت سمیت دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔

بھارت کے انکم ٹیکس حکام نے گزشتہ ماہ لاکھوں افراد کو نوٹس بھیجے تھے جن کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ کرپٹو کرنسی میں تجارت کر رہے ہیں، کیونکہ ایک قومی سروے کے مطابق 17 ماہ کے عرصے میں ساڑھے 3 ارب ڈالرز کی ٹرانزیکشنز ہوئی تھیں۔