بھارتی پولیس اہلکار 200 بٹ کوائن رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے

1,200

بھارت کی پولیس بھی رشوت ستانی کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہے، بلکہ پاکستان کی پولیس سے بھی چار ہاتھ آگے ہے۔ اب ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ بھارتی پولیس والے واقعی جدید رشوت خور بن گئے ہیں کیونکہ ان کے چند پولیس اہلکار ایک کاروباری شخص سے 200 بٹ کوائن کی رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔

بھارت کی ریاست گجرات میں کرمنل انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) 8 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ ایک بزنس مین سے 200 بٹ کوائن کی رشوت لے رہے تھے۔

مقامی کاروباری شخص شیلش بھٹ نے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا کہ انہوں نے اسے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا اور تاوان طلب کیا۔ بھٹ نے دو مزید افراد کو بھی اس معاملے میں ملوث قرار دیا ہے جن میں ایک وکیل اور ایک ایجنٹ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل گجرات سی آئی ڈی کے مطابق ان پولیس اہلکاروں نے بزنس مین کو 11 فروری کو ریاستی دارالحکومت گاندھی نگر بلایا، جہاں اسے ایک فارم ہاؤس پر حراست میں رکھا گیا۔ جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان سے 200 بٹ کوائنز ایک نامعلوم اکاؤنٹ پر ٹرانسفر کروائے۔

بھٹ نے جب وعدہ کیا کہ وہ حوالے کے ذریعے مزید 320 ملین بھارتی روپے ادا کرے گا تو اسے چھوڑ دیا گیا۔ سی آئی ڈی کو گو کہ اب تک بٹ کوائن ٹرانسفر کا ثبوت نہیں ملا ہے، لیکن اسے حراست میں رکھنے، دھمکیاں دینے اور تاوان طلب کرنے کی شہادتیں ضرور مل گئی ہیں۔

یہ بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھٹ کو پولیس نے کسی سے بٹ کوائن چوری کرنے کے الزام میں ملنے والی شکایت پر پکڑا تھا۔ حقیقت کیا ہے؟ اس کا پتہ اب عدالت ہی چلائے گی۔