ایران کی میسیجنگ ایپ میں "امریکا مردہ باد” کے نعرے

825

ایرانی مقامی سطح پر تیار کردہ ایک ایسی میسیجنگ ایپ کی ترویج کر رہا ہے جس میں شامل ایک ایموجی "امریکا مردہ باد” کا نعرہ بھی رکھتا ہے۔ اس ایپ کا مقصد لاکھوں ایرانی صارفین سے مشہور ٹیلی گرام سروس چھڑوانا ہے کیونکہ اُس پر الزام ہے کہ یہ ملک میں بے امنی کو ترویج دے رہی ہے۔

نئی ایپ سروش دیگر کئی خصوصیات کے ساتھ خاص ایموجیز بھی رکھتی ہے جن میں ایران کی روایتی چادر پہنی خواتین کی ایموجیز بھی شامل ہیں۔ ایک ایموجی میں ایک خاتون سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تصویر لیے کھڑی ہیں تو دیگر میں اسرائیل، امریکا اور فری میسنز مردہ باد کے نعروں پر مشتمل پلے کارڈ لیے۔

آیت اللہ خامنہ ای بھی اس ایپ کی ترویج میں حصہ لے رہے ہیں جنہوں نے ٹیلی گرام پر اپنا اکاؤنٹ بند کردیا ہے اور صارفین کو بھی ایسا ہی کرنے کی ترغیب دی ہے اور کہا ہے کہ "مقامی میسیجنگ ایپ کے استعمال کی ترویج کے لیے صدارتی ٹیلی گرام چینل کی سرگرمیاں بند کردی گئی ہیں۔”

ٹیلی گرام کے مضبوط سکیورٹی اور پرائیویسی فیچرز کی وجہ سے 5 کروڑ ایرانی اسے استعمال کرتے ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایپ ملک میں حکومت مخالف مظاہروں اور تحریک میں استعمال کی جا رہی ہے۔

سروش کا دعویٰ ہے کہ اس کے صارفین کی تعداد 50 لاکھ ہے اور یہ ٹیلی گرام ہی کی طرح صارفین کو دیگر چینلز میں شمولیت، خبریں جاننے اور آن لائن کاروبار کرنے کی سہولتیں دیتی ہے۔

ایران کی سپریم سائبرسپیس کونسل نے سرکاری اداروں کے لیے غیر ملکی ایپس کا استعمال ممنوع قرار دے دیا ہے اور اب ہو سکتا ہے کہ جلد ہی ٹیلی گرام کو بند کردیا جائے۔ حال ہی میں ٹیلی گرام اپنے آبائی ملک روس میں بھی پابندی کا نشانہ بن چکی ہے۔