ایران میں سوشل میڈیا بند کرنے کی تیاریاں

759

ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد حکومت ایران نے موبائل انٹرنیٹ تک رسائی بند کرنے اور مختلف سوشل میڈیا ایپس بند کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ یہ آٹھ سال میں پہلا موقع ہے کہ ایران میں اس نوعیت کے مظاہرے ہوئے ہوں۔

مظاہروں کی بنیادی وجہ تو ملک کی کمزور ہوتی معاشی صورت حال تھی لیکن اب ان کا رخ حکومت وقت کی جانب ہو گیا ہے۔ مختلف شہروں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مظاہرین نہ صرف ملک میں طاقت کے اصل مرکز رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ چند تو ایسے بھی ہیں جو 1979ء میں قبل از انقلاب کی بادشاہت کی بحالی کے حق میں ہے۔

ان مظاہروں کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ وزیر داخلہ عبد الرحمان رحمانی فضلی نے کہا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور بے امنی پھیلانے والے قانون کے سامنے جواب دہ ہیں اور انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی ۔

لیکن خرم آباد، زنجان اور اہواز کے شہروں میں ہزاروں افراد کے مظاہروں کی وڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد انٹرنیٹ کو بند کرنے پر کام شروع کیا گیا ہے۔ اس کا حکم سنیچر کی رات دیا گیا تھا اور اب عالم یہ ہے کہ ٹیلی گرام اور چند دیگر سوشل میڈیا ایپس پر پابندی لگ چکی ہے۔

ایران ہمیشہ سوشل میڈیا پر ناقد رہا ہے اور گزشتہ سال اس نے ملک کے انٹرنیٹ صارفین کو قومی انٹرانیٹ تک محدود کرنے کا ارادہ بھی کیا تھا۔ ملک کے تمام بڑے ٹیلی کمیونی کیشن ادارے ملک کے دو طاقتور اداروں پاسداران انقلاب یا شوریٰ نگہبان کے کنٹرول میں ہیں یا ان سے قریبی کاروباری تعلق کی بدولت چلتے ہیں۔ بہرحال، سینسر کی تمام تر کوششوں کے باوجود معلومات اب بھی ایران سے باہر آ رہی ہیں کیونکہ اب ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ 2012ء میں مصر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بھی ایسا کیا گیا تھا لیکن عموماً اس کا نتیجہ خاص نہیں نکلتا کیونکہ انٹرنیٹ اور ایپس استعمال کرنے کے دیگر طریقے بھی موجود ہیں اور صارفین ان کا استعمال کر لیتے ہیں ۔ بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان میں سالہا سال کی یوٹیوب بندش کے دوران بھی ہوتا رہا۔