جعلی خبروں کے بعد اب جعلی وڈیوز!

1,321

یہ دیکھیں، آپ جعلی خبروں کو بھول جائیں گے کیونکہ یہ ہے جعلی وڈیوز، مصنوعی ذہانت کی مدد سے معروف شخصیات کی ایسی وڈیوز، جنہیں گھٹیا مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان وڈیوز کو deepfakes کہا جا رہا ہے۔ اس میں پروگرامر اپنے ہدف، یعنی کسی معروف شخصیت، کی کوئی موجودہ وڈیو اور آڈیو کو استعمال کرتے ہوئے اس سے کچھ بھی بلوا سکتا ہے۔ یوں نظروں کو دھوکا دینے والی ایسی چیز سامنے لا سکتا ہے جو نہ صرف اس کے مذموم مقاصد کو پورا کر سکتی ہے بلکہ دنیا کو ایک بڑے بحران میں بھی مبتلا کر سکتی ہے۔ تصور کیجیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک وڈیو سامنے آئے، یا کسی دوسرے عالمی رہنما کی، کہ وہ کسی ملک کے خلاف جنگ کا اعلان کر رہے ہیں۔ اگر پھر بھی سمجھ نہيں آ رہی تو یہ وڈیو دیکھیں:

اس سے بھی متاثر نہیں ہوئے تو یونیورسٹی آف واشنگٹن کے محققین کی تیار کردہ یہ وڈیو ضرور دیکھیں جس میں انہوں نے سابق صدر براک اوباما کی ہو بہو نقل بنائی ہے:

یونیورسٹی نے اوباما کی 14 گھنٹے کی وڈیو فوٹیج کو استعمال کرتے ہوئے اس نظام کو اس طرح تیار کرلیا ہے کہ اب اوباما صاحب سے کچھ بھی بلوائیے، وہ رٹّو طوطے کی طرح بولتے جائیں گے۔

اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ان وڈیوز کی تصدیق کرنا مشکل ہے اور یہ واقعی بہت بڑے مسئلے کے جنم دے سکتی ہیں۔ ان وڈیوز کو خاص طور پر کوئی بھی اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کر سکتا ہے یا کسی شخصیت کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔