جانئے یو ایس بی سی USB-C کیا ہے

5,340

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی پیش رفت ہوتی رہتی ہے۔ جہاں ایک طرف نئے نئے سافٹ وئیر تیار ہو رہے ہیں وہیں دوسری طرف ہارڈوئیر میں بھی انقلابی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ لیکن ایک چیز جو اس سارے منظر نامے میں بہت کم ارتقاء پزیر ہے۔۔۔ وہ ہے رابطہ کاری یعنی نیٹ ورکنگ سے متعلقہ آلات اور میعارات۔۔۔۔ ان میعارات میں کنکٹرز بھی شامل ہیں۔ جن میں سے ایک یو ایس بی کنکٹر بھی ہے۔

یو ایس بی دراصل یونیورسل سیریل بس Universal Serial Bus کا مخفف ہے۔ یہ کنکٹر بنیادی طور پر دو آلات کو منسلک کرنے، چارجنگ کرنے اور ڈیٹا منتقل کرنے جیسے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے USB کا میعار ایک ہی رہا ہے۔ تاہم اس میں ڈیٹا منتقلی کی رفتار اور جسامت کے حوالے سے معمولی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ جنہیں یو ایس بی 2.0 اور مائیکرو یو ایس بی بھی کہا جاتا ہے۔

لیکن گزشتہ چند ماہ سے یو ایس بی سی USB – C کا تذکرہ سننے میں آ رہا ہے۔ قارئین نے بھی کمپیوٹنگ پر شائع ہونے والے اکثر مضامین میں اس کے بارے میں پڑھا ہو گا۔ کیونکہ یو ایس بی سی، نئے فلیگ شپ فونز اور لیپ ٹاپس کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم بہت کم قارئین اس سے واقف ہوں گے کہ آخر یو ایس بی سی ہے کیا؟
اس مضمون میں ہم آپ کو USB-C کے بارے میں بتائیں گے۔

یو ایس بی سی کیا ہے؟

یو ایس بی سی USB- C دراصل میعاری کنکٹرز کی دنیا میں نیا اضافہ ہے جسے چارجنگ اور ربط سازی Connectivity کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے یو ایس بی فورمز کی جانب سے تیار کیا گیا ہے جو یو ایس بی سے متعلقہ میعارات طے کرتا ہے۔ یہ فورم دراصل 700 سے زائد کمپنیوں کے گروہ پر مشتمل ہے۔ ان کمپنیوں میں ایپل، ڈیل، ایچ پی، انٹیل، مائیکروسافٹ، اور سام سنگ جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس فورم کی جانب سے طے کیے گئے میعارات دنیا بھر کی سافٹ اور ہارڈوئیر کمپنیوں کے لیے قابل قبول اور مستعمل ہوتے ہیں۔

یو ایس بی سی کی بناوٹ کیسی ہے؟

یو ایس بی سی بظاہر پرانے مائکرو یو ایس بی جیسا دکھائی دیتا ہے جس سے آپ اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے بخوبی واقف ہوں گے۔ لیکن یہ اس سے موٹائی میں زیادہ ہے کیونکہ اس کی خصوصیات بھی پرانے کنکٹر سے زیادہ ہیں۔ دوسرا بڑا فرق یہ ہے کہ اس کی پن کی بناوٹ یکساں رکھی گئی ہے۔ اسی طرح دو کنکٹرز کو آپس میں جوڑنے والی تار بھی دونوں طرف سے یکساں ڈیزائن کی حامل ہے۔ اس کنکٹر سے جڑنے کے لیے آپ کو یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ آپ تار کی کون سی سائیڈ لگا رہے ہیں۔ گویا اب آپ تار کو سیدھا یا الٹا جوڑنے کے جھنجھٹ سے آزاد ہو جائیں گے۔ جس سے 20 سال سے آپ کو سامنا تھا۔

کیا اسے یو اسی بی 3.0 سے جوڑا جا سکتا ہے

جی بالکل۔۔۔ دراصل یو ایس بی سی کو ہم یو ایس بی کا 3.1 ورژن کہ سکتے ہیں۔ اسے پرانے کنکٹر سے جوڑا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے آپ کو اڈاپٹر کی ضرورت پڑے گی۔ یہ اڈاپٹرز کئی لیپ ٹاپس اور اسمارٹ فونز میں ساتھ ہی آتے ہیں جن میں یو ایس بی سی کا استمعال کیا گیا ہو۔ جبکہ بعض فونز کے لیے اسے علحیدہ خریدنا پڑتا ہے۔

یو ایس بی سی کی بنیادی خوبیاں کیا ہیں

یو ایس بی سی کنکٹر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ 10 گیگا بائٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کر سکتا ہے۔ یہ یو ایس بی 3.0 میعار سے دوگنی رفتار ہے۔ اس کے علاوہ یہ ڈسپلے پورٹ، HDMI، پاور، یو ایس بی، اور VGA سمیت متعدد پورٹس اور کنکٹرز کو اسپورٹ کرتا ہے۔

یہ کنکٹر 100 واٹ تک برقی طاقت مہیا کر سکتا ہے۔ جبکہ اس وقت میک بک 29 واٹ اور زیادہ تر بڑے لیپ ٹاپس 85 سے 100 واٹس تک پاور اسپلائی لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں یو ایس بی سی عام اسمارٹ فونز سے لے کر بڑے لیپ ٹاپس میں برقی طاقت (پاور اسپلائی) مہیا کرنے کے کام آئے گا۔ اور یونیورسل چارجنگ کنکٹر کے طور پر کام کرے گا۔ واضح رہے کہ ایک لیپ ٹاپ کو یو ایس بی کے ذریعے چارج کرنے کا خیال نیا نہیں ہے۔ مثلاً لینوو یوگا 3 پرو میں یو ایس بی 3.0 پاور چارجر استعمال ہوتا ہے۔

یو ایس بی سی کی خامیاں

یو ایس بی سی کی بڑی خامی یہ ہے کہ یہ تھنڈربولٹ کو اسپورٹ نہیں کرتی۔ تھنڈربولٹ کو انٹیل اور ایپل نے مشترکہ طور پر ڈیزائن کیا تھا۔ دوسری خامی یہ ہے کہ یو ایس بی سی چونکہ ابھی انتہائی طور پر رائج ہو رہی ہے اس لیے اس کے ساتھ مطابقت کے لیے آپ کو اضافی اڈاپٹرز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

حرفِ آخر

قارئین۔۔۔۔ ایک وقت تھا جب کمپیوٹرز میں پی ایس 2، پیرالل، سیریل سمیت درجنوں پورٹس استعمال ہوتی تھیں۔ لیکن اب یہ تعداد سکڑتی جا رہی ہے۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ رفتار، استعمال میں آسانی، جسامت اور جدیدیت کی بناء پر یو ایس بی سی مستقبل میں ان کنکٹرز کا بہترین متبادل ثابت ہو گی۔ اور آپ کو کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون سمیت کوئی بھی نیا برقی آلہ خریدتے یا پہلے والا بیچتے وقت چارجنگ سمیت دیگر تاروں کو خریدنا یا تبدیل نہیں کرنا پڑے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تار کو الٹا سیدھا لگانے کے جھنجھٹ سے بھی ہمیشہ کے لیے آزادی مل جائے گی۔ کیونکہ اس کے نر اور مادہ حصے (میل، فی میل) یکساں بنائے گئے ہیں۔

مزید تفصیلات کے لیے یہ ویڈیو دیکھیے۔ جس میں میک بک پرو میں یو ایس بی سی کا استعمال دکھایا گیا ہے۔