جاپان اور چین کے بعد ڈجیٹل کرنسیوں پر اب امریکا کا وار

1,437

امریکا کے تمام بڑے کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے اداروں نے اپنے کارڈ کے ذریعے بٹ کوائن اور دیگر ڈجیٹل کرنسیاں خریدنے پر پابندی لگا دی ہے، اور بتایا ہے کہ اس قدم سے صارفین کو لاحق مالیاتی و قانونی خطرہ کم ہو جائے گا۔

سب سے پہلے بینک آف امریکا نے یہ قدم اٹھایا اور پھر جے پی مورگن نے۔ سٹی گروپ نے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے کریڈٹ کارڈز پر کرپٹو کرنسی کی خرید کو روک رہا ہے جبکہ کیپٹل ون اور ڈسکور پہلے ہی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ یعنی کہ امریکا کے تمام پانچ سب سے بڑے کریڈٹ کارڈ ادارے یہ بڑا قدم اٹھا چکے ہیں جو ان کے اپنے مفاد میں ہے۔

گزشتہ سال کرپٹو کرنسی کے حوالے سے عوامی دیوانگی کو دیکھتے ہوئے کئی اداروں نے کریڈٹ کارڈ پر ڈجیٹل کرنسی فروخت کرنا شروع کردی تھی، اور لوگ اتنی کرپٹو کرنسی خریدنے لگے، جتنی ان کی حیثیت نہیں تھی اور وہ بھی ادھار پر۔ اب جبکہ بٹ کوائن دسمبر کے مقابلے میں نصف قیمت کا بھی نہیں رہ گیا، کئی سرمایہ کار اب پریشان ہیں اور بٹ کوائن کی خریداری پر خرچ کردہ رقم بینک کو دینے کے لیے پریشان ہیں۔

علاوہ ازیں اپنے صارفین کو منی لانڈرنگ اور دیگر مسائل سے بچانا اور خبردار کرنا بھی بینک کا کام ہے اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بٹ کوائن اور دیگر ڈجیٹل کرنسیوں کی خریداری کو روکنا اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے کرپٹو کرنسی مارکیٹ بہت تیزی سے زوال پذیر ہے اور عالم یہ ہے کہ دسمبر میں 20 ہزار ڈالرز کی حد کو چھونے والا بٹ کوائن آج ساڑھے 7 ہزار ڈالرز کا بھی نہیں ہے۔

مارکیٹ میں اس زوال کی وجہ چین میں بڑے سوشل نیٹ ورکس پر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کے اشتہارات پر پابندی، فیس بک میں اشتہارات پر پابندی اور اس جیسی کئی مایوس کن خبریں ہیں اور اب امریکا میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری پر پابندی مارکیٹ کی صورتحال کو اور گمبھیر کر رہی ہے۔