خبردار! اے ٹی ایم ہیک ہونے کا خطرہ

2,168

آٹوٹیلر مشینیں یعنی اے ٹی ایمز بنانے والے دنیا کے دو سب سے بڑے اداروں ڈائی بولڈنکسڈورف (Diebold Nixdorf) اور این سی آر (NCR) نے خبردار کیا ہے کہ ہیکرز امریکا میں کیش مشینوں کو اس طرح ہیک کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی تمام نقدی اگل دیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ “جیک پاٹ” حملے میکسیکو سے امریکا منتقل ہو سکتے ہیں، وہ بھی اگلے چند دنوں میں ۔ اگر امریکا میں کسی ایسے حملے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ امریکا میں اپنی نوعیت کا پہلا “جیک پاٹ” ہوگا ۔

ڈائی بولڈ نکس ڈورف نے تصدیق نہیں کی کہ میکسیکو یا امریکا میں کتنی مشینوں کو ہدف بنایا گیا ہے یا کتنی رقوم لوٹی گئی ہے، البتہ گزشتہ چند سالوں میں اے ٹی ایم جیک پاٹنگ بہت بڑھ رہی ہے۔ گو کہ اب تک یہ واضح نہیں کہ اس طرح کتنی رقم بینکوں سے نکالی گئیں کیونکہ بینک اور قانون نافذکرنے والے ادارے ایسی تفصیلات کو صیغہ راز میں رکھتے ہیں۔

اب امریکی بینکوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ہیکرز تنہا اے ٹی ایم مشینوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جو بینکوں کے بجائے دوا خانوں، دکانوں اور پٹرول پمپوں پر نصب ہوتے ہیں۔ گزشتہ حملوں میں ایسے افراد اے ٹی ایم ٹیکنیکشنز کا حلیہ اپنا کر آئے اور اے ٹی ایم آپریٹنگ سسٹم کی ایک نقل رکھنے والے لیپ ٹاپ کو ایک موبائل ڈیوائس کے ساتھ لگا کر اے ٹی ایم کو نشانہ بنایا۔

روسی ادارے گروپ آئی بی کے مطابق سائبر مجرموں نے 2016 میں یورپ بھر میں درجن سے زیادہ کیش مشینوں کو نشانہ بنایا، وہ بھی دور سے بیٹھے بیٹھے اور سافٹویئر کے ذریعے، اور مشینوں نے کیش اگلنا شروع کردیا۔ ایسے ہی حملے تھائی لینڈ اور تائیوان میں بھی رپورٹ کیے گئے۔

ڈائبولڈ نکسڈورف کا کہنا ہے کہ ہیکرز اس کے بنائے گئے اے ٹی ایم مشین ماڈل اوپٹیوا کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں، جو ادارے نے چند سال پہلے بنانا بند کردیا تھا لیکن کچھ بینک اب بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ادارے کا ماننا ہے کہ یہی طریقہ دیگر ماڈلز کی مشینوں پر بھی آزمایا جا سکتا ہے۔

انتباہ کے ساتھ ہی بینکوں کو ایسے طریقے بھی بتائے گئے ہیں جن سے ایسے حملوں سے بچا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بھی چینی ہیکروں کی کارروائیوں کی وجہ سے کئی افراد اپنے لاکھوں روپوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ بالخصوص کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایسی کئی کارروائیاں کی گئیں اور سب سے بڑا نشانہ حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) بنا ۔ ان ہیکس میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں معاملے کی فوری تحقیقات کرتے ہوئے کئی غیر ملکی ہیکرز کو گرفتار کیا جو مشینوں میں اسکمنگ ڈیوائس نصب کرکے ان کے کارڈ ہیک کرتے تھے۔