خوفناک روبوٹ بھیڑیا فصلوں کو بچاتا ہوا

918

گزشتہ آٹھ ماہ سے جاپان کا شہر کسارازو اِس خوفناک روبوٹ بھیڑیے کو دیکھ رہا ہے۔ لیکن پریشان مت ہوں، اسے آپ کو ڈرانے کے لیے نہیں بنایا گیا ، حالانکہ ہے اتنا خوفناک کہ جانتے ہوئے بھی آدمی کی جان نکل جائے۔ اس بھیڑیے کا نام ہے "Super Monster Wolf” اور اسے بنایا گیا ہے ان جانورون کے لیے جو کھیتوں میں گھس کر فصلوں کو برباد کرتے ہیں۔

جاپان میں بھیڑیوں کی داستان بہت افسوس ناک ہے۔ دراصل جاپان میں بھیڑیے پائے ہی نہیں جاتے۔ 1800ء کی دہائی کے اوائل میں اس ملک سے بھیڑیوں کا خاتمہ کردیا گیا تھا اور یہ کام سرکاری سطح پر کیا گیا۔ آج عالم یہ ہے کہ دو صدیوں بعد جاپان میں ہر طرف ہرنوں اور جنگلی سؤروں کا راج ہے۔ وہ چاول کی فصلوں اور اخروٹ کے باغات میں گھس کر مفت کی عیاشی کرتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسانوں کو یہ جانور سخت ناپسند ہیں۔ انہیں ڈرانے اور بھگانے کے لیے ملک میں بھیڑیے نے نیا جنم لیا ہے، ایک روبوٹ کی صورت میں۔ گویا جن ہاتھوں نے اصل بھیڑیوں کا خاتمہ کیا، انہی نے یہ روبوٹک بھیڑیا بنایا ہے۔

روبوٹ بھیڑیے کا تجرباتی مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور بہت کامیاب رہا ہے، اتنا کامیاب کہ اگلے مہینے اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ لیکن ذرا ٹھیریے، یہ مت سمجھیے کہ یہ کوئی بھاگ دوڑ کر دخل اندازی کرنے والے کو چیر پھاڑ کر رکھ دینے والا بھیڑیا ہے بلکہ تجربہ میں تو یہ ثابت ہوا کہ اس کا دائرۂ اثر محض ایک کلومیٹر کا دائرہ ہے۔ اگر اس سے زیادہ علاقے کا احاطہ کرنا ہو تو بھیڑیوں کو بڑھانا ہوگا۔

روایتی طریقوں کو چھوڑ کر اسی کو آزمانا ہے تو ایک روبو وولف کی قیمت 5 لاکھ 14 ہزار ین یعنی لگ بھگ 5 ہزار ڈالرز ہے۔ یہ بہت زیادہ قیمت ہے لیکن کمپنی ماہانہ لیزنگ کی سہولت بھی دیتی ہے۔

2.2 فٹ لمبا یعنی حقیقی بھیڑیے کے حجم کا یہ روبوٹ خطرناک بال بھی رکھتا ہے اور دانت بھی۔ شمسی توانائی سے چارج ہونے والی بیٹریاں استعمال کرنے والا یہ مصنوعی بھیڑیا اپنے انفراریڈ سینسرز کے ذریعے دخل اندازی کرنے والوں کو پہچانتا ہے۔ پھر مختلف آوازیں نکال کر اسے ڈرانے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ بھیڑیے کی آواز تو ہے ہی، لیکن اس کے علاوہ انسانی آوازیں بھی ہیں اور گولیوں کی آوازیں بھی تاکہ گھسنے والا جانور بھاگ جائے۔ ویسے گولیوں کی آوازیں سن کر تو انسان بھی بھاگنا شروع کردے گا۔